بلوچستان کے ضلع آواران میںپاکستانی فورسز اور اس کے تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈنے 3 نوجوانوں کا ماورائے عدالت فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔جبکہ ضلع کیچ سے ایک نوجوان کو جبری لاپتہ کردیاگیا ہے۔
ضلع آواران کے علاقے جھل جھاؤ میں آج بروزمنگل کو 2 بلوچ نوجوانوں کو فورسز کی پشت پناہی میں کام کرنے والے مسلح گروہ ڈیتھ اسکواڈ کارندوں نے ماورائے عدالت قتل کر دیا۔
مقتولین کو قتل سے چند گھنٹے قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، نذیر احمد ولد بہرام بلوچ کو جلائی کانی گاؤں میں واقع اس کے گھر سے صبح کے وقت حراست میں لیا گیا، جب کہ نور خان ولد امیر بخش کو جھل جھاؤ میں اغواہ کیا گیا، دونوں نوجوانوں کی لاشیں چند گھنٹے بعد جھل جھاؤ میں پھینکی گئی۔
واضح رہے کہ آج صبح بھی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ایک نوجوان تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کے ادارہ پانک نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل کا یہ اندوہناک واقعہ بلوچستان کی بلوچ آبادی کے خلاف جاری ریاستی تشدد، سزا سے استثنیٰ، اور ظلم کی عکاسی کرتا ہے۔
پانک نے کہا کہ ہم بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر مداخلت کریں، پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اس پرتشدد مہم کو روکے، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور بلوچستان کے تمام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
اسی طرح مشکے میں گزشتہ روز قتل کیے گئے نوجوان کی شناخت مزار بلوچ ولد جمال خان کے نام سے ہوئی ہے، جو مشکے کے علاقے گورکائی کے رہائشی تھے۔ گزشتہ روز فورسز کے کیمپ پر پیشی دینے کے بعد جب وہ واپس گھر جا رہے تھے تو پاکستانی فوج کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے انہیں فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ مزار بلوچ کو 2015 میں ایک بار جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں تین سال جبری گمشدگی کے بعد رہا کیا گیا۔ انہیں کافی عرصے سے فورسز کی جانب سے پیشی کے لیے کیمپ بلایا جا رہا تھا۔
دوسری جانب ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے نوجوان، صدام ولد محراب بلوچ، کو فورسز نے حراست میں لیے جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔
صدام بلوچ اور ان کے ساتھی گلزار نیک سال کو تربت شہر کے مضافاتی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ گلزار نیک سال کو بعد ازاں رات گئے رہا کر دیا گیا، تاہم صدام بلوچ کی حوالگی یا خیریت سے متعلق تاحال کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
صدام بلوچ کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے سری شاپک سے ہے، جہاں وہ گلزار نیکسال کے ساتھ ایک چھوٹے گیراج میں بطور مکینک کام کرتے ہیں۔
اہل خانہ کے مطابق وہ ہر روز کی طرح اس روز بھی صبح معمول کے وقت گیراج جانے کے لیے نکلے تھے، مگر راستے میں پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے دونوں کو حراست میں لے لیا۔
گلزار نیکسال کو کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رات تقریباً 12 بجے رہا کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں متعدد بار ان گمشدگیوں پر آواز اٹھا چکی ہیں۔