شام : دروز فرقے کے پیروکاروں، سکیورٹی فورسز و مقامی قبائل میں جھڑپیں جاری، ہلاکتیں 203 ہو گئیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

شام میں دروز فرقے کے پیروکاروں، سکیورٹی فورسز اور مقامی قبائل میں جھڑپیں جاری ہیں ، ہلاکتوں کی تعداد 203 ہو گئی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جنوبی شام کے صوبے السويدا میں اتوار کے شام سے دروز فرقے کے پیروکاروں اور بدو قبائل کے جنگجوؤں کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 203 ہو گئی ہے۔

ہلاکتوں کے اضافے کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے شامی افواج کے خلاف حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق مسلح جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے 92 افراد کا تعلق دروز کمیونٹی سے ہے۔ اِن میں وہ 21 عام دروز شہری بھی شامل ہیں ’جنھیں سرکاری فورسز نے ایک میدان میں ہلاک کیا۔‘ اس کے علاوہ صوبے السویدا میں بڑے پیمانے پر کشیدگی اور سرکاری فورسز کی بھاری تعیناتی کے بیچ 93 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 18 بدو بھی مارے گئے ہیں۔

خبررساں اداروں کے مطابق ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے جنوب میں شامی افواج کے خلاف اپنے فضائی حملے روکے۔ صحافی بارک راویڈ کے مطابق اسرائیل نے واشنگٹن کو آگاہ کیا کہ وہ جلد از جلد اپنے فضائی حملے روک دے گا۔

تاہم، سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بدھ کو علی الصبح اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے السویدا صوبے کے دیہی علاقوں ’تھلہ‘ اور ’شکراویہ‘ کی سڑکوں پر شامی فوج کے اہداف کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔ اس حملوں کے نتیجے میں جانی نقصانات کی اطلاعات بھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں ایک گیسٹ ہاؤس کے اندر سویلین کپڑوں میں ملبوس کم از کم 10 افراد خون میں لت پت دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے کچھ زمین پر اور کچھ صوفوں پر پڑے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق اس گیسٹ ہاؤس کی دیواروں پر دروز فرقے کے شیوخ تصویریں نظر آ رہی ہیں جبکہ عمارت میں ٹوٹا پھوٹا فرنیچر بھی موجود ہے۔

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق ایک مسلح گروپ، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حکومتی فورسز سے وابستہ ہے، نے السویدا کے دیہی علاقے میں المظلومہ فیملی گیسٹ ہاؤس میں ’ایک خاتون سمیت چار دروز شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔‘

شامی حکام نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

TAGGED:
Share This Article