بلوچستان میں رواں سال کے پہلے 6ماہ کے دوران عسکریت پسندی کے واقعات میں 45.63فیصد جبکہ سیٹلرز کی ٹارگٹ کلنگ میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے ۔
بلوچستان میںرواں سال اب تک عسکریت پسندی کے 501واقعات میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت257افراد ہلاک اور 492زخمی ہوگئے ۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں رواں سال 11جولائی تک سیکورٹی فورسز پر مجموعی طور پر 332حملوں میں 133اہلکار ہلاک جبکہ 338اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سیٹلرز کی ٹارگٹ کلنگ کے امسال اب تک 14بڑے واقعات میں 52افرادہلاک جبکہ 11زخمی ہوگئے ہیں۔
اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں رواں سال 28آئی ای ڈی دھماکوں میں 19افراد ہلاک جبکہ 62زخمی ہوئے ، سولینز پر 59حملوں میں 11افراد ہلاک ، 29زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹرین پر ایک حملے میں 28افرادہلاک ، ریلوے ٹریک پر حملوں میں ایک شخص ہلاک ہوا۔
بلوچستان میں اب تک 35دستی بم حملے ہوچکے ہیں جن میں تین افرادہلاک جبکہ 30زخمی ہوئے ۔
اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں فرقہ وارنہ نوعیت کے 2واقعات میں 5افراد ہلاک ،پولیو ورکز پر اب تک ایک حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے ۔
بلوچستان میں اب تک 9مواصلاتی ٹاورز پر حملے ہوئے جن میں دو افراد زخمی ہوئے نقصان پہنچایا گیا ۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال یکم جنوری سے جون تک 344واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ سیٹلرز کی ٹارگٹ کلنگ کے 7واقعات میں 22افراد ہلاک ہوئے تھے ۔