آج بروز جمعرات کو آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف)نے بلوچستان بھر میں "آپریشن بام” کا اعلان کیا تھا جو ہنوز جاری ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق بی ایل ایف کی غیر معمولی فوجی آپریشن ( بام) کے نتیجے میں بلوچستان میں پاکستانی رٹ مکمل طور پر مفلوج ہوگئی ہے۔ آپریشن کے ردعمل میں انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرین سروس بند اور سی پیک روٹ میں آمد و رفت متاثر ہے۔
بی ایل ایف ترجمان میجر گھرام نے تاحال تفصیلات جاری نہیں کی ہیں لیکن اب تک بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج اور ریاست پاکستان کے مفادات پر 60 سے زائد حملے ہوچکے ہیں۔
اس سلسلے میں ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے بی ایل ایف کی جاری آپریشن بام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ، قلات، مستونگ اور سر ڈھاکہ میں مسلح افراد نے حملے کیے ہیں ۔
شاہد رند نے دعویٰ کیا کہ تینوں مقامات پر سیکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور رسپانس دیاہے ۔
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سر ڈھاکہ کے قریب بعض مسافروں کے اغواء کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،مسافروں کی بحفاظت بازیابی کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔