بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے غیر معمولی فوجی آپریشن ( بام) کے نتیجے میں بلوچستان میں پاکستانی رٹ مکمل طور پر مفلوج ہوگئی ہے۔
بی ایل ایف کے آپریشن کے ردعمل میں انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرین سروس بند اور سی پیک روٹ میں آمد و رفت متاثر ہے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گھرام نے جمعرات کی صبح ایک مختصر بیان میں بتایا کہ بی ایل ایف کی طرف سے آپریشن بام کا آغاز کیا گیا ہے۔
میجر گھرام نے تاحال تفصیلات جاری نہیں کی ہیں لیکن اب تک بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج اور ریاست پاکستان کے مفادات پر پچاس سے زائد حملے ہوچکے ہیں۔
یہ بلوچستان میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کی تاریخ کا پہلا بلوچستان گیر آپریشن ہے جس میں بیک وقت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں حملے کیے گئے ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ عموما گوریلا جنگ کے بنیادی اصول ہٹ اینڈ رن کی پالیسی پر عمل کرتی ہے لیکن آپریشن ” بام ” میں اس بنیادی حکمت عملی کے برعکس اعلانیہ حملوں کا آغاز کیا گیا۔میجر گھرام کے بیان میں گوکہ تفصیلات سے گریز کیا گیا لیکن سترہ حملے اعلان سے قبل ہوچکے تھے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق آپریشن بام کے اہداف فوجی سے زیادہ سیاسی ہیں۔ بی ایل ایف ایک پیغام دینا چاہتی ہے کہ بلوچ تحریک بلوچستان بھر میں منظم اور مربوط طاقت کے ساتھ موجود ہے۔
ان کارروائیوں میں نہ صرف حملے کیے گئے بلکہ روڈ بند کرکے بھی پیغام دیا گیا کہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی موجودگی محض علامتی رہ گئی ہے بلوچ سرمچار جب بھی چاہئیں کسی بھی جگہ پر حملے کرسکتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا مزید کہنا ہے کہ یہ طویل اور مستقل حکمت عملی کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ یہ اس بات کا عملی اظہار ہوتے ہیں کہ بلوچ سرمچار غیر معمولی صلاحیت رکھنے کے باوجود صبر و تحمل کے ساتھ اپنی جنگی حکمت عملی مرتب کرتے ہیں۔
بی ایل ایف کے حوالے سے بھی یہاں اہم ہے کہ بی ایل ایف نے اب تک اس طرح اپنی قوت کی نمائش سے گریز کیا ہے مکران اور آواران بی ایل ایف کی کارروائیوں کا مرکز رہے ہیں لیکن خضدار، وڈ، کلات بولان اور کوئٹہ میں بھی بی ایل ایف متحرک رہی ہے۔
حالیہ کارروائی میں بی ایل ایف نے ایسے علاقوں میں بھی اپنے قدموں کے نشان رکھے ہیں جہاں قبل ازیں بی ایل ایف کی کارروائیوں کا کوئی رکارڈ نہیں جیسا کہ کرمو وڈ، صحبت پور اور نصیر آباد۔
بی ایل ایف کے ان علاقوں میں موجودگی روایتی قبائلی علاقوں میں بلوچوں کی اس قوت کا طلوع ہے جسے عوامی اور عام لوگوں کی تنظیم کہا جاتا ہے۔
عام طور پر بی ایل ایف کو تنقید کا سامنا رہا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں تنظیمی گرفت رکھنے میں ناکام رہی ہے، آپریشن بام بی ایل ایف کے بارے میں اس تاثر کو زائل کرئے گی۔
اب تک بی ایل ایف کے کیے گئے حملوں کی تفصیلات درج ذیل ہے تاہم تنظیم کی طرف سے انھیں قبول نہیں کیا گیا ہے۔
1: 9 جولائی کی صبح 11 بجے پنجگور میں قلم چوک پر قائم پاکستانی فورسز کی چوکی پر مسلح افراد کا حملہ، حملے میں فورسز کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
2: 9 جولائی کی شام 4:40 بجے خاران شہر میں مسلح افراد کا پاکستانی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ، حملے میں ہلاکتوں کی اطلاعات
3: 9 جولائی کی شام 6 بجے خاران میں ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر پر مسلح افراد کا حملہ، جانی نقصانات کی اطلاعات
4: 9 جولائی کو دو پہر ایک بجے سبی کے علاقے کرموں وڈ میں قائم پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ، ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
5: 9 جولائی کی رات آٹھ بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے خاران شھر میں گْواش روڈ پر قائم ایف سی چیک پوسٹ پر اس وقت حملہ کیا جب فورسز کے چھ اہلکار شھر کے خارجی راستے پر گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے۔ حملے میں فورسز کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
6: جھاؤ کے علاقے نوندڑہ کولنج میں 9 جولائی دوپہر دو بجے کے قریب مسلح افراد نے یوفون کے موبائل ٹاور کو نذرِ آتش کر دیا۔ واقعے کے بعد فورسز کچ کیمپ سے روانہ ہو کر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور معائنہ کرنے کے بعد واپس روانہ ہو گئیں۔
7: دریں اثنا شام سات بجے کے قریب دُرا گاؤں کے مقام پر واپسی کے دوران گھات لگائے مسلح افراد نے فوجی قافلے کو شدید حملے میں نشانہ بنایا۔ حملے میں فورسز کے اہلکاروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
8: سبی پھاٹک کے مقام پر پولیس چوکی پر دستی بم حملہ، نقصانات کی اطلاع
9: سبی ٹول پلازہ کے قریب قائم پاکستانی فورسز کے چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا جدید و بھاری ہتھیاروں سے حملہ۔
10: خضدار کے علاقے وڈھ پلی مَس میں قائم پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ پر مسلح افراد کی بڑی تعداد کا حملہ، شدید فائرنگ اور دھماکوں کے ساتھ حملہ تاحال جاری ہے۔
11: کیچ: جوسک میں شیوانی پمپ کے قریب قائم کسٹم چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ، حملے کے دوران شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
12: کیچ: 9 جولائی کی رات 9 بجے گورکوپ میں پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔
13: صحبت پور کے علاقے لوہی میں واقع پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ
14: نصیر آباد کے علاقے ساسولی کے مقام پر قائم پولیس چیک پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا
15: سبی کے علاقے دوسا لاشاری میں مسلح افراد کا مین شاہراہ پر ناکہ بندی
16: 9 جولائی کی شام کے وقت جھاؤ کے علاقے گزی میں مسلح افراد نے فورسز کی چوکی پر جدید و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا حملے کے دوران فورسز نے فضا میں ڈرون کیمرے اُڑیا اُسے بھی سرمچاروں نے نشانہ بناکر مار کرایا۔
17: 9 جولائی جھاؤ: داروکوچہ میں واقع فوجی کیمپ پر بھی شدید حملہ کیا گیا، جس سے فورسز کو جانی و مالی نقصان ہوا۔
18: 9 جولائی کی شام پانچ بجے کولواہ کے کڈے ہوٹل میں قائم فورسز کے مرکزی کیمپ پر مسلح افراد نے نے چاروں طرف سے حملہ کیا، جس میں بھاری ہتھیار استعمال ہوئے اور علاقہ دھماکوں سے گونج اُٹھا۔ کولواہ میں پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ پر بلوچ مسلح افراد نے شدید حملہ کیا۔ حملے کے دوران فورسز نے نگرانی کے لیے سرویلنس کیمرہ اور کواڈ کاپٹر استعمال کیے، جنہیں مسلح افراد نے نشانہ بنا کر مار گرائے۔
19: نصیرآباد کے علاقے چھتر کے قریب شہنشاہ کے مقام پر پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ
20: خاران کے علاقے تاگزّی میں پاکستانی فورسز کے چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ
21: تجابان، گزشتہ رات 11:30 بجے کرکی میں قائم پاکستانی فورسز کے کیمپ مسلح افراد نے حملہ کیا، اس دوران شدید فائرنگ و دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔
22: کیچ: گورکوپ میں پاکستانی فورسز کے کیمپ پر متعدد ماٹر گولے فائر جو کیمپ کے اندر گرے ہیں۔
23: مند سورو میں پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ پر دو اطراف سے حملہ
24: خضدار: وڈھ کے علاقے دراکالہ میں مسلح افراد کا قیمتی معدنیات لے جانے والی دو گاڑیوں پر مسلح افراد کا حملہ
25: کیچ: 9 جولائی کی شب 8 بجے مسلح افراد نے سری گڈگی واٹر سپلائی میں قائم پاکستانی فورسز کی چوکی پر تین اطراف سے بھاری اور جدید ہتھیاروں سے شدید حملہ کیا۔
26: کوئٹہ: سونا خان میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ
27: کوئٹہ: ہزار گنجی میں ایف کی چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ
28: 10 جولائی کی صبح 9:00 بجے کے قریب بلگتر کے علاقے سعد آباد میں قائم پاکستانی فورسز کے کیمپ پر مسلح افراد کی بڑی تعداد کا چاروں اطراف سے حملہ
29: کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر کھڈکوچہ کے علاقے الحسن ہوٹل کے قریب مسلح افراد نے معدنیات لیجانے والے ٹرکوں پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا۔
30: قلات اور منگوچر کے درمیان مرجان ہوٹل کے قریب بڑی تعداد میں مسلح افراد کی مین شاہراہ پر ناکہ بندی اور سخت چیکنگ جاری ہے۔
31 کوئٹہ-سبی شاہراہ پر کولپور اور دشت کے مقامات پر مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندی اور سنیپ چیکنگ جاری ہے۔
32: کوئٹہ سبی شاہراہ پر دشت میں مسلح افراد کی دوران ناکہ بندی لیویز پوسٹ پر قبضہ اسلحہ اور گاڑیاں ضبط
33: قلات کے علاقے کپوتو اور توک کے مقام پر نصب نے تین موبائل ٹاورز پر فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا، جبکہ ٹاورز کی مشینری کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
34: بلیدہ: میناز میں واقع یو بی ایل بینک کی عمارت کو نامعلوم افراد نے نذرِ آتش کردیا۔
ذرائع کے مطابق بیس موٹر سائیکلوں پر مشتمل قافلے نے نئی بنک کو گھیرے میں لے لیا۔بینک میں داخل ہوکر اسٹاف کو باہر نکالا اور بینک کو مکمل نذرآتش کردیا۔جس سے بینک کے املاک کو نقصان پہنچا۔
35: کیچ: گورکوپ میں پاکستانی فورسز کے کیمپ پر متعدد ماٹر گولے فائر جو کیمپ کے اندر گرے ہیں۔
36: قلات ٹول پلازہ کے نزدیک پیش قدمی کرنے والے فورسز کے اہلکاروں پر مسلح افراد کا حملہ اور جھڑپیں جاری
37: خاران سی پیک لنک روڈ پر بلوچ سرمچاروں کی ناکہ بندی جاری
38: دالبندین میں گیس لے جانے والی بوزر گاڑیوں پر مسلح افراد نے حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا۔
39: خاران کے علاقے جنگل میں سوپک کراس پر بلوچ سرمچاروں کی ناکہ بندی جاری
40: قلات کے علاقے دشت گوران میں مسلح افراد نے گدان ہوٹل کے قریب ناکہ بندی کی، جب کہ نزدیکی یوفون ٹاور پر فائرنگ کر کے نقصان پہنچایا گیا۔ حملے کے دوران ٹاور کی مشینری کو بھی آگ لگا دی گئی۔
41: کیچ کے علاقے گورکوپ نیامی کلگ میں گزشتہ رات بلوچ سرمچاروں نے پاکستانی فورسز کی چوکی پر ایک اور حملہ کیا۔ ذرائع کے مطابق، حملے کے دوران فورسز نے فضاء میں ڈرون کیمرہ اڑایا، جسے سرمچاروں نے نشانہ بنا کر مار گرایا۔
42: تمپ: گومازی میں آج شام کے وقت پاکستانی فورسز کی چوکی پر مسلح افراد نے حملہ کیا، حملے کے بعد فورسز نے علاقے کو سیل کرکے سخت چیکنگ شروع کی۔
43: کوئٹہ کے کرانی روڈ پر ہزارہ ٹاؤن میں پاکستانی فورسز چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ
44: جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں بلوچ سرمچاروں نے پاکستانی فورسز کے کیمپ پر بھاری اور جدید ہتھیاروں سے حملے میں نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق، حملہ آدھے گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا ہے۔
45کوئٹہ: بلوچ سرمچاروں نے دشت میں ناکہ بندی کے دوران سیکریٹریٹ کی بس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بس کو نقصان پہنچا۔
46 خاران کے علاقے لتّاڈ میں ایف سی چیک پوسٹ پر بلوچ سرمچاروں کا حملہ
47: کیچ کے علاقے دشت بل نگور میں قائم پاکستانی فورسز کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا اس دوران کافی دیر تک فائرنگ و دھماکوں کی آواز سنی گئی
48 قلات کے علاقے مرجان میں آرمی کے اہلکاروں پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ، ذرائع کے مطابق دھماکے میں کم از کم آٹھ سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
49: قلات کے علاقے منگوچر میں منگوچر کراس پر واقع ایف سی پوسٹ پر ہینڈ گرنیڈ حملہ
50: پنجگور سی پیک روڈ میں بلوچ سرمچاروں کی ناکہ بندی جاری ہے۔