پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار صغیر بلوچ کی ہمشیرہ نسیدہ بلوچ نے اپنے بھائی اور کزن اقرار کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔
نصیدہ بلوچ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میرے بھائی صغیر بلوچ کو دوران سفر آواران سے تربت جاتے ہوئے اور ماڑہ کے مقام پر جبری لاپتہ کیا گیا ہے۔اس سفر میں میرے بھائی صغیر کے ساتھ میرا کزن اقرار بلوچ بھی تھادونوں کا جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکاہے۔
انہوں نے کہا کہ صغیر کو اورماڑہ کے مقام پر اتار کر جبری لاپتہ کرنے کے بعد میرے کزن اقرار بلوچ کو کچھ آگے دوسرے مقام پر گاڑی سے اتار کر جبری لاپتہ کیا گیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی دن میں ایک خاندان کے دو افراد کو جبری لاپتہ کرنا ظلم کی انتہا ہے ۔آج ہمارا پوراخاندان کس درد واذیت سے گزر رہا ہے یہ وہی سمجھ سکتا ہے جو اس درد سے گزر رہا ہے۔
نصیدہ بلوچ نے تمام سیاسی ، سماجی و طلبا تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنان سے اپیل کی ہے وہ کہ صغیر بلوچ اور اقرار بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔کیونکہ صغیر بلوچ بے گناہ ہے،تلاش رزق کے لئے جارہا تھا جو ہمارے خاندان کا واحد کفیل ہے۔
نصیدہ بلوچ نے مزید کہا کہ میری بہن حمیدہ کے بچوں کا واحد سہارا صغیر بلو چ ہے ۔میں ایک بار پھر تمام سیاسی ، سماجی و طلبا تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبردار قومی اور بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ صغیر بلوچ اور اقرار بلوچ کی باحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔