تربت: پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ خاتون بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے گذشتہ روز پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے خاتون روبینہ بلوچ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئیں ۔

مقامی میڈیا بلوچستان اپڈیٹس نے روبینہ بلوچ کی بازیابی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ خاتون کی جبری گمشدگی کی خبر نشر ہونے کے بعد روبینہ بلوچ کے خاندانی ذرائع نے بلوچستان اپڈیٹس سے رابطہ کرکے اس بات کی تصدیق کی کہ روبینہ بلوچ چند گھنٹوں بعد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئیں۔

واضع رہے کہ ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ سے تعلق رکھنے والی خاتون روبینہ بلوچ دختر محب اللہ، عمر 30 سال، جو پیشے کے لحاظ سے ایک سرکاری لیڈی ہیلتھ وزیٹر (LHV) ہیں، کو گذشتہ شام چار بجے اوورسیز کالونی، تربت سے ایف سی اور ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کر دیاتھا۔

فورسز ہاتھوں خاتون کی جبری گمشدگی کے بعدبلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسے تشویشناک قرار دیتے ہوئے جبری گمشدگیوں کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب بلوچ وومن فورم نے بھی روبینہ بلوچ کی جبری گمشدگی کوانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

وومن فورم نے کہا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو سمجھیں اور خواتین کو جبری گمشدگی جیسے سنگین اور غیر انسانی اقدامات سے دور اور محفوظ رکھیں۔

Share This Article