بی ایل ایف نے مختلف کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرلی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں چاغی میں ناکہ بندی کی،ریاستی مشینریز پر حملہ ، اسلحات کی ضبطی اور مشکے میں ڈیتھ اسکواڈ پر حملہ و ایک اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ انتیس جون 2025 کو شام چار بجے کے قریب، بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے چاغی کے حساس اسٹریٹیجک زون پدگ، گوک آپ میں کوئٹہ-تفتان ہائی وے N-40 پر ایک ٹیکٹیکل روڈ بلاکیڈ قائم کی۔ اس کنٹرولڈ ایریا میں ناکہ بندی کے دوران گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی گئی، دوران چیکنگ محکمہ کسٹم کی گاڑی کو روک کر انہیں گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف اور ایک نائن ایم ایم پستول بر آمد کیا۔

انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے ابتدائی انٹیلیجنس چھان بین کے بعد، تمام اہلکاروں کو، ایک غیر مقامی آپریٹو سمیت کو ہیومینیٹیرین پروٹوکول کے تحت رہا کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں کے دوسرے دستے نے قریبی کوہ چکی لیویز بیس اسٹیشن پر ریڈ آپریشن کیا۔ اس کارروائی میں لیویز اہلکاروں کو سٹرٹیجک گرفتاری کے بعد وہاں سے سرکاری اسلحہ ضبط کیا، اور بیس اسٹیشن کی فزیکل انفراسٹرکچر کو آگنیاتی تخریب کاری (pyrotechnic sabotage) کے ذریعے ناکارہ بنا دیا۔ جبکہ ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو اس شرط پر رہا کیا کہ وہ مستقبل میں بلوچ عوام اور ڈرائیوروں کو غیر ضروری طور پر حراساں کرنے سے گریزاں رہیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ اٹھائیس جون کو شام کے وقت بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خفیہ ونگ کی فراہم کردہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر مشکے کے علاقے گورکائی میں ریاستی حمایت یافتہ پراکسی کے کارندوں کے قافلے میں شامل چار موٹر سائیکلوں میں سے ایک موٹرسائیکل کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک شدہ کی شناخت خیر بخش ولد اشرف محمد حسنی کے طور پر ہوئی، جبکہ زخمی اہلکار کی شناخت گل محمد ولد فقیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ خیر بخش جو ریاستی سپانسرڈ پیرا ملٹری نیٹ ورک کا کلیدی آپریٹو تھا۔ یاد رہے کہ اس کے والد اشرف کو 2017 میں بی ایل ایف کی اسنائپر ٹیم نے ایک کاروائی کے دوران نشانہ بناکر ہلاک کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ نیٹ ورک آواران کے علاقوں بالخصوص مشکے میں حال ہی کے کاؤنٹر انسرجنسی تھریٹس، جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹڈ کلنگز میں براہ راست ملوث رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ چاغی اور مشکے میں کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور میڈیا کے توسط سے بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ وہ ان تمام بلوچ دشمن عناصر اور قوتوں کا ایک ایک کر کے خاتمہ کرے گی۔

Share This Article