بلوچستان کے علاقے پنجگور میں پاکستانی فورسز نے جبری گمشدگی کے شکار ظہیر احمد ایک کے بیٹے ذیشان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔جبکہ قلات میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
پنجگور سے جبری لاپتہ ظہیر احمد کے بیٹے ذیشان کی بہن ادیبہ بلوچ کا کہنا ہے، کہ اسکے بھائی ذیشان ولد ظہیر احمد جو ایک طالب علم ہے، کو 29 جون کو ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔
واضع رہے کہ 13 اپریل 2015 میں ذیشان کے والد ظہیر احمد کو فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا، وہ تاحال لاپتہ ہے۔
ادیبہ بلوچ کا کہنا ہے کہ "وہ، اسکا بھائی ذیشان اور اس کے اہل خانہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنے والد کی ظہیر بلوچ کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے تھے، حق تو یہ تھا کہ ہمارے والد کو بازیاب کیاجاتا، لیکن افسوس اب بھائی کو جبری لاپتہ کرکے ہمارے خاندان کی کرب و اذیت میں مزید اضافہ کیاگیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ذیشان کی جبری گمشدگی ایک ماورائے قانون اقدام ہے، جسکی مذمت کرتے ہیں، اور حکومت سے مطالبہ کرتےہیں کہ وہ بلوچ طالب علم ذیشان اور اسکے والد ظہیر احمد کی باحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کرکے خاندان کو زندگی بھر کی کرب و اذیت سے نجات دلائیں۔
دوسری جانب قلات میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کبیر احمد نامی شخص ہلاک ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ کے بعد ملزمان موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہے۔