بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے زیر اہتمام گذشتہ روزہفتہ کولندن میں برطانوی وزیرِاعظم ہاؤس (10 ڈاؤننگ اسٹریٹ) کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
یہ مظاہرہ تشدد کا شکار افراد کے عالمی دن اور بی این ایم رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے 16 سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا۔
احتجاج میں برطانیہ بھر سے بی این ایم کارکنان، بلوچ کمیونٹی کے افراد اور انسانی حقوق کے کارکن شریک ہوئے۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اور جبری گمشدگیوں کی مذمت کی۔
مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جہاں پاکستانی ریاستی ادارے برسوں سے بلوچوں کو جبری لاپتہ اور ان کے اہلِ خانہ کو اذیت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ لیکن بلوچ قوم اپنی سرزمین اور آزادی کے لیے پرعزم ہے اور جدوجہد جاری رکھے گی۔
رہنماؤں نے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی سمی دین بلوچ نے دنیا کی طویل ترین لانگ مارچ کی، ہزاروں مائیں اور بیٹیاں بلوچستان میں سراپا احتجاج ہیں، سینئر سیاستدان واحد کمبر بلوچ بھی اغوا کے بعد گمنام جبری گمشدہ حالت میں ٹارچر سیل میں قید ہیں ، جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت کئی انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، سیاسی رہنماء اور وکلا پاکستانی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔
مقررین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں جاری مظالم پر خاموشی ترک کریں اور پاکستان کی ریاستی دہشتگردی اور جبری گمشدگیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
بی این ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ قوم ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور قتل و غارت کے باوجود اپنی جدوجہد آزادی اور انسانی حقوق کے لیے ڈٹی ہوئی ہے۔
اسی طرح بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے جبری گمشدگی کے سولہ سال مکمل ہونے اور عدم بازیابی کے خلاف ہفتے کے روز جرمنی کے دارالحکومت برلن کے مصروف ترین مقام برلن گیٹ پر بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی زون کی طرف سے احتجاج کیا گیا ۔
احتجاج میں بی این ایم کے کارکنوں ، خواتین اور بچوں نے شرکت کی ۔ ان کے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کی تصایرویں تھی اور وہ تمام جبری لاپتہ افراد کے لئے انصاف کا مطالبہ کررہے تھے ،اس موقع پر جرمن اور انگلش زبان میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا جس میں ڈاکٹر دین محمد اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے صورتحال پیش کیا گیا ۔
مظاہرین نے کہاکہ جبری گمشدگی انسانیت پر حملہ ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا مقصد قوموں کو نیست و نابود کرنا ہے لیکن ڈاکٹر دین محمد بلوچ جیسے لوگوں کی یاد ہر احتجاج میں، ہر بلند ہونے والی آواز میں، اور ظلم کے خلاف ہر جرات مندانہ قدم میں زندہ ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیاکہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے کیس میں سچ اور احتساب کیا جائے ،بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، پاکستان پر بین الاقوامی توجہ اور دباؤ، تمام متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے انصاف سمیت جبری لاپتہ افراد کو بحفاظت بازیاب کئے جائیں ۔
مظاہرین نے کہاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں خطرناک حد تک جاری ہیں ، عالمی اداروں کی خاموشی پاکستان کو مزید جبر کا جواز بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جبری لاپتہ افراد کے ہزاروں خاندان اس وقت اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں ، جبکہ زیر حراست افراد کا روزانہ جعلی مقابلوں میں قتل لواحقین کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن رہے ہیں ۔