بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کوئٹہ و مستونگ حملوں میں پاکستانی فوج اور استحصالی کمپنیوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کوئٹہ اور مستونگ میں دو مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج اور قومی وسائل کی لوٹ مار میں شریک استحصالی کمپنیوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ شب، سرمچاروں نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں قابض پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر دستی بم سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج مستونگ میں سرمچاروں نے قومی وسائل کی لوٹ مار میں شریک استحصالی کمپنیوں کی پانچ گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران ریکوڈک منصوبے کے لیے سامان لے جانے والی تین گاڑیوں کو بلوچستان ہوٹل کے قریب مرکزی شاہراہ پر نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا گیا، جبکہ سیندک منصوبے سے منسلک ایک گاڑی اور نوشکی سے اسٹیل ملز کو معدنیات فراہم کرنے والی ایک اور گاڑی کو رحمان ہوٹل اور کوہ نور ہوٹل کے قریب نشانہ بنا کر ناکارہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ روز اپنے بیان میں واضح کردیا تھا کہ ان استحصالی منصوبوں سے وابستہ افراد فوراً اپنا عمل ترک کریں، بصورتِ دیگر وہ اپنے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ بلوچ وسائل کی لوٹ مار کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی، اور مستقبل میں ہمارے حملے مزید شدید ہوں گے۔