قطر وعراق میں امریکی اڈوں پرایران کے میزائل حملے

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

ایرانی سرکاری میڈیا پر اعلان کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں ’طاقتور اور فاتحانہ‘ ردِ عمل کی ابتدا کر دی ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے قطر اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے ہیں۔ ایران نے اس آپریشن کو ’بشارت الفتح‘ کا نام دیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور اس کے اتحادیوں کو ’واضح‘ پیغام دیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ہر حملے کا جواب دیا جائے گا۔

پچھلے کچھ منٹوں میں قطر میں دھماکے سنائی دینے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ایران کی فوج نے قطر میں جس امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے وہ شہری اور رہائشی علاقوں سے بہت دور تھا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس اقدام سے ہمارے دوست اور برادر ملک قطر اور اس کے معزز لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

’ایران قطر کے ساتھ گرمجوشی اور تاریخی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے پُر عزم ہے۔‘

امریکہ کی العدید بیس پر حملے کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس کامیاب آپریشن میں استعمال ہونے والے میزائلوں کی تعداد ان بموں کے برابر تھی جو امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے میں استعمال کیے تھے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے فراہم کی گئی ان تصاویر میں قطر کے آسمان پر روشنیاں دیکھی جا سکتی ہیں جو ایران کے حملے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے قطر میں امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے ہیں جبکہ قطرکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے اس حملے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔

قطر کی حکومت نے العدید میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ایرانی کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

قطری کی وزراتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ہم اسے ریاست قطر کی خودمختاری، اس کی فضائی حدود، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ قطر کے فضائی دفاعی نظام نے ’حملے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا اور ایرانی میزائلوں کو ناکام بنا دیا‘ اور اڈے کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’قطری مسلح افواج کے ارکان، دوست افواج اور دیگر سمیت بیس پر اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے تھے۔‘

’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔‘

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’قطر اس جارحیت کی نوعیت اور پیمانے کے حساب سے مساوی انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ کے 40 ہزار سے زیادہ فوجی مشرقِ وسطیٰ میں مختلف ممالک میں تعینات ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ امریکی افواج اپنے ملک سے ہزاروں میل دور مشرقِ وسطیٰ میں اتنی بڑی تعداد میں کیوں موجود ہیں؟ اس سوال کا جواب اس تنازع کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

العدید ایئر بیس قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب واقع ہے۔ یہاں مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس اڈے پر قریب آٹھ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

اس اڈے پر برطانوی فوج بھی باری باری تعینات ہوتی ہے۔ اسے بعض اوقات ابو نخلہ ایئرپورٹ کہا جاتا ہے۔

قطر نے سنہ 2000 میں امریکہ کو العدید ایئر بیس تک رسائی دی تھی۔ لندن میں قائم انٹیلیجنس فرم گرے ڈائنیمکس کے مطابق یہ ایئر بیس 2001 میں امریکہ کے زیرِ انتظام آئی تھی۔ دسمبر 2002 میں دوحہ اور واشنگٹن نے باقاعدہ ایک معاہدے کے ذریعے العدید ایئر بیس پر امریکی فوج کی موجودگی تسلیم کی تھی۔

سنہ 2024 میں سی این این نے اطلاع دی تھی کہ امریکہ نے قطر میں عسکری موجودگی کو مزید 10 سال کی توسیع دی ہے۔

Share This Article