مستونگ میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، لیویز تھانہ و سیندک پروجیکٹ کی گاڑیاں نذرآتش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد نے گذشتہ روزاتوار کو دو مقامات بلوچستان ہوٹل کے قریب اور سبی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے چیک پوائنٹیں قائم کیں۔گاڑیوں کی چیکنگ کی اور لیویز تھانہ دشت پر قبضہ کرکے اسے اور سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

واقعے کے دوران کسی قسم کے جانی نقصانات کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ حملہ آور کارروائی مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

خیال رہے کہ اس واقعے سے چند گھنٹے قبل مستونگ کے علاقے بلوچستان ہوٹل کے مقام پر سیندک پروجیکٹ سے وابستہ گاڑیوں کو روک کر نذر آتش کیا گیا۔

مسلح افراد نے شاہراہ کو بلاک کرکے آنے جانے والے گاڑیوں کی چیکنگ بھی کی۔

اسی طرح ضلع مستونگ میں بلوچستان ہوٹل کے قریب مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کرکے ناکہ بندی کردی۔

اطلاعات کے مطابق مسلح افراد گزرنے والی گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی ۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں کو روک کر آگ لگا دی۔ متعدد گاڑیاں مکمل طور پر جل چکی ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ ناکے پر موجود مسلح افراد جدید ہتھیاروں سے لیس تھے اور انہوں نے سارے علاقے کا کنٹرول لے رکھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مستونگ میں قومی شاہراہ پر بلوچستان ہوٹل کے مقام پر اس وقت ایک جذباتی منظر دیکھنے کو ملا جب بلوچ سرمچار ناکہ بندی و گاڑیوں کی چیکنگ کر رہے تھے کہ ایک خاتون نے آ کر ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیا اور دعائیں دیں ۔

عینی شاہدین کے مطابق خاتون نے کوئی خوف محسوس نہیں کی بلکہ ان کے قریب آ کر ان کے ہاتھوں کو چوما اور انہیں دعائیں دیں۔اور سرمچار نے بھی ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعائیں لیں۔

کل مستونگ کے علاقے کردگاپ کے مقام پر بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کرلی ۔

بی ایل ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں سرکاری دفاتر پر قبضہ، اسلحہ ضبط، گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور مرکزی شاہراہوں کی بندش شامل تھے۔

تاہم آج ہونے والے واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

Share This Article