بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نےمیڈیا کو جاری کردہ ا پنے ایک بیان میں دُکی ،کوئٹہ،ہوشاب اور کولواہ میں پاکستانی فوج کے 5 اہلکاروں ،ایم آئی ایجنٹ اور سی ٹی ڈی اہلکاروں سمیت مخبروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے دُکی اور کوئٹہ میں دو مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج کے آلۂ کار اور سی ٹی ڈی تھانے کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے بدھ کی شب دُکی میں قابض پاکستان کے نام نہاد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کا ایک اہلکار نورالدین زخمی ہوگیا جبکہ تھانے کو نقصان پہنچا۔
انکا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گذشتہ روز کوئٹہ کے سریاب، کیچی بیگ میں قابض پاکستانی فوج کی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے آلۂ کار مشتاق حسین ولد علی نواز راٹھور سکنہ سندھ مورو کو مسلح حملے میں ہلاک کردیا۔ مذکورہ آلۂ کار قابض فوج کا حاضر سروس اہلکار بھی تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ آلۂ کار مشتاق حسین کو قابض فوج کی جانب سے سریاب سمیت کوئٹہ کے دیگر مقامات پر خفیہ سیلز قائم کرکے مخبری و سہولت کاری کیلئے لوگوں کی بھرتی کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ مذکورہ سیلز اور ان سے منسلک دیگر افراد کی نشاندہی ہوچکی ہے جن کا انجام جلد ہی مشتاق حسین کی طرح ہوگا۔
جیئند بلوچ نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ہوشاب اور کولواہ میں قابض پاکستانی فوج کو آئی ای ڈی اور مسلح حملوں میں نشانہ بناکر شدید نقصانات سے دوچار کیا جبکہ زہری سے گرفتار ایک ایم آئی ایجنٹ کو ہلاک کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے کیچ کے علاقے ہوشاب میں گونڈسرین کے مقام پر سی پیک روٹ کی حفاظت کیلئے قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے خودکار اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دشمن فوج پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم از کم ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 16 جون کو کیچ کے علاقے کولواہ میں بل کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی گاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ دنوں خضدار کے علاقے زہری سے قابض پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ایک آلہ کار خضر کو گرفتار کیا جو بھیس بدل کر زہری شہر اور گردونواح میں مخبری کر رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ دورانِ تفتیش آلہ کار نے اعتراف کیا کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کا ایجنٹ ہے جسے کراچی سے فوج کے آفیسر محمد کاشف نے ڈی جی خان اور بعد ازاں بلوچستان کے علاقے گوادر بھیجا جہاں وہ کئی دنوں تک مخبری کرتا رہا۔ بعدازاں وہ کوئٹہ پہنچا، پھر قلات گیا اور وہاں آفیسر قیوم سے ملاقات کی جس کے بعد اُسے زہری میں مخبری کیلئے روانہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اعترافِ جرم کے بعد آلہ کار کو بلوچ قومی عدالت نے سزائے موت سنائی جس پر سرمچاروں نے فوری عمل درآمد کیا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔