پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے پاکستانی فورسز نے ایک بلوچ طالب علم کوجبری لاپتہ کردیا ہے جبکہ خضدار سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ایک نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے ۔
اسلام آباد میں قائم فیڈرل میڈیکل کالج کے 25 سالہ طالب علم شایان مینگل کو 18 جون 2025 کو اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب سے فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔
شایان مینگل کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے احمد قاضی آباد سے ہے، اور وہ معروف قبائلی شخصیت حاجی امیر حمزہ مینگل کے صاحبزادے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، شایان اسلام آباد میں میڈیکل تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت نہ تو کوئی قانونی وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی وضاحت فراہم کی گئی۔
اہلِ خانہ نے بتایا کہ انہوں نے مختلف تھانوں اور متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا، تاہم کہیں بھی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اہلِ خانہ نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شایان مینگل کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
دوسری جانب خضدار سے جبری لاپتہ نوجوان طالب علم عابد عزیز بازیاب ہوگیا ہے۔
خاندانی ذرائع نے ان کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے آواز اٹھانے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
عابد عزیز کو فورسز نے خضدار لائبریری سے واپس گھر کی طرف جاتے ہوئے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا تھا ۔
گزشتہ شب وہ بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا ہے۔