خضدار، قلات و تربت سے 4 نوجوان جبری لاپتہ ، تمپ سے ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقوں قلات ، خضداراور تربت سے 4 نوجوان جبری طور پر کردیئے جبکہ تمپ سے ایک جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوگیا۔

تربت کے علاقے سری کہن میں گزشتہ شب تین بجے فورسز کی بھاری نفری نے تخسین کریم کے گھر پر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے زبردستی داخل ہو کر انہیں اور ان کے چھوٹے بھائی حلیفہ کریم کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں دونوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

لواحقین کے مطابق، تخسین کریم پیشے کے لحاظ سے محکمہ زراعت میں بیلدار ہیں، جبکہ ان کے بھائی حلیفہ کریم ایک ڈرائیور ہیں۔

دوسری جانب خضدار سے تعلق رکھنے والے قانون کے طالب علم عابد عزیز کو لائبریری سے گھر واپسی کے دوران فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

اسی طرح ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے نوجوان سید انس شاہ ولد سید نور شاہ کو فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

یہ واقعہ 13 جون 2025 کو اس وقت پیش آیا جب وہ کوئٹہ سے قلات واپس آ رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق سید انس شاہ ایک مسافر ویگن میں سوار ہوکر کوئٹہ سے قلات کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم راستے میں مستونگ، کھڈکوچہ کے مقام پر فورسز اس کو اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔

دریں اثنا کلاہو تمپ سے تعلق رکھنے والے لاپتہ شخص نثار احمد ولد کریم بخش جمعہ کو بازیاب ہوگئے۔

لاپتہ شخص کو اہل خانہ کے حوالہ کردیا گیا۔

نثار کریم کو 30 جولائی 2023 کو ضلع گوادر سے لاپتہ کیا گیا تھا جن کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ نے کافی کوشش کی۔

Share This Article