بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستانی فورسز کے زیر حراست صفا اللہ بلوچ کے قتل کے خلاف لواحقین نے ڈی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
احتجاجی مظاہرے میں خواتین، بچے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
تربت آپسر بنڈے کلات کے رہائشی صفااللہ ولد مولابخش کے لواحقین نے ڈی سی کیچ آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ صفااللہ کو 20 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا، مگر 29 اپریل کو اچانک ایک ایف آئی آر درج کرکے یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ مقابلے میں مارا گیا ہے، جو سراسر جھوٹ اور زیادتی ہے۔
مظاہرین نے ڈی سی آفس کے مین گیٹ کے سامنے دھرنا دیا اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ صفااللہ کو دوران حراست قتل کیا گیا اور اب واقعے کو "مقابلہ” قرار دے کر چھپایا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مزید کہا کہ ایک اور نوجوان شاہجہان کو بھی 14 اپریل کو اٹھایا گیا تھا، جس کی تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کہ شاہجہان کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور صفااللہ کے ماورائے عدالت قتل کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
لواحقین اور مظاہرین نے اعلیٰ حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔