تربت : جبری لاپتہ نعیم بشیر کی اہلخانہ کی پریس کانفرنس ، فوری بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت بہمن سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نعیم بشیر کے اہلخانہ نے پریس کانفرنس میں ان کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم انتہائی دکھ اور اذیت میں مبتلاکردیئے گئے ہیں، ھم احتجاج کے لئے رابطہ مہم کو وسعت دیں گےتاکہ اپنے لاپتہ بیٹے نعیم بشیرکی بازیابی کیلئے تواناآواز بلند کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نعیم بشیر کو 5فروری2025کو بہمن میں واقع گھر سےرات کے تقریباً 4بجے کے قریب اٹھا لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نعیم بشیر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہےجسکی غیر موجودگی نےپورے خاندان کوشدید ذہنی اذیت اور پریشانی اور بے چینی میں میں مبتلا کردیا ھے- نعیم بشیر 16سال کا ایک معصوم پرامن اور تعلیم دوست طالب علم ہیں وہ بارھویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ اس دوران دو عیدیں گزر چکی ھیں مگر ہمارے خاندان کے لیے خوشی کے بجائے غم اوردکھ کے باعث بنے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نعیم بشیر کو ساڑھے چار مہینے ھو چکا ہے ہم نے بار بار ضلعی انتظامیہ علاقائی معتبرین سےملاقاتیں کیں ہر بار ہمیں یہ دلاسہ دیا گیا کہ نعیم بشیر ایک دو دن میں بازیاب ہو جائے گا مگر انتظار کرتے کرتے ہمارے حوصلے ہارچکے ہیں ۔

ان کا آخر میں کہنا تھا کہ ہم پرامن شہری ہیں لہٰذا ہم ضلعی انتظامیہ اعلیٰ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ نعیم بشیر کو جلد ازجلد بازیاب کیا جائے ، بصورتِ دیگر ہم مجبور ہیں کہ ضلع انتظامیہ کے دفتر،ایم ایٹ اور ڈی بلوچ کے مقام غیرمعینہ مدت تک دھرنادیں گے۔

Share This Article