بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے پاکستانی فورسز نے ایک طالب علم کو جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے جبکہ کولواہ میں فورسز نے ایک زیرحراست نوجوان کو تشدید تشدد کا نشانہ بناکرقتل کردیا ۔
تربت سے اطلاعات ہیں کہ فورسز نے زور بازار سے کراچی یونیورسٹی کے طالب علم عزیر سلیم ولد سلیم عیسیٰ کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا ہے۔
عزیر سلیم یونیورسٹی آف کراچی میں زیر تعلیم ہیں اور حالیہ دنوں چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے آبائی علاقے تُربت آئے ہوئے تھے۔
دوسری جانب کولواہ میں فورسز کے زیر حراست نوجوان کوتشدد کا نشانہ بناکر قتل کردیا گیا اور لاش آدھی رات کو پھینک دی گئی۔
کولواہ، رودکان میں گذشتہ روز فورسز نے متعدد علاقائی افراد کو حراست میں لیکر جرک کیمپ منتقل کردیا۔ جہاں دیگر افراد کو بعدازاں رہا کردیا گیا تاہم نواب ولد نوربخش سکنہ رودکان، رود کو تحویل میں رکھا گیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز کے زیرحراست نواب کی لاش برآمد ہوئی ہے جس پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ لاش کی حالت ایسی ہے جیسے مذکورہ شخص بے انتہاء کرنٹ دینے سے جھلس گیا ہے۔
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔