پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف عید الاضحیٰ کے پہلے روز کوئٹہ اور تربت میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
ان مظاہروں میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور ان کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔
کوئٹہ میں عید کے پہلے روز لاپتہ افراد کی بازیابی، ان کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات اورڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کے رہنمائوں کی عدم رہائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔
کوئٹہ پریس کلب کے باہر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی ، نیشنل پارٹی، ہزارہ ورکرز کے علاوہ دیگر جماعتوں اور تنظیموں کے رہنمائوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔
اس مظاہرے میں بھی ایک خاتون اپنے لاپتہ رشتہ دار کے نئے کپڑوں کے ساتھ شریک ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر عید پر اس امید کے ساتھ اپنے لاپتہ رشتہ دار کے لیے نئے کپڑے تیار کرواتی ہیں تاکہ عید پر اچانک بازیاب ہونے کی صورت میں وہ نئے کپڑوں کے بغیر نہ رہے۔
مظاہرے کے شرکا سے وائس فار بلوچ منسگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، نیشنل پارٹی کے رہنما علی احمد بلوچ اور بی این پی کی رہنما شمائلہ اسماعیل، مہیم خان بلوچ اور لاپتہ افرادکے رشتہ داروں نے خطاب کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ عید پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن وہ عید کے روز بھی جبری گمشدگی کے شکار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ کہ حالیہ چند ماہ کے دوران بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے بقول ہر ماہ سو سے ڈیڑھ سے لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں ایم فل کے سکالر غنی بلوچ اور طالبہ ماہ جبین بلوچ سمیت متعدد نوجوانوں کو گزشتہ ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے دوران لاپتہ کیا گیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ کے چیئرمین نے کہا کہ لوگوں کی جبری گمشدگی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ مئی اور جون کے دوران 21 لاپتہ افراد کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔
مقررین نے تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے علاوہ ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت بی وائی سی کے گرفتار رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان جیئند بلوچ کے اہلِ خانہ نے آج عید کے پہلے روز تربت کے شہید فدا چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے میں درجنوں افراد نے شرکت کی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔