بلوچستان اسمبلی میں بدھ کے روزانسداد دہشتگردی بلوچستان ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے بعدپہلے سے جبری لاپتہ بلوچ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی سنگین جنگی جرائم کی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے ۔
گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران فورسز نے 6 عسکریت پسندوں کو مختلف کارروائیوں میں مارنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن مارے گئے افراد میں اب تک شناخت کئے گئے 2 فرادکی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی ہے۔
بلوچستان کے علاقے بارکھان اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے میں بلوچ عسکریت پسندوں اور سرکاری امن لشکر کے درمیان جاری جھڑپوں میں 4 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ امن لشکر کی قیادت بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے بھائی آفتاب بگٹی کررہے ہیں۔
عوامی حلقوں نے مذرکوہ جھڑپوں کو جعلی قرار دیتے ہوئے اسے پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو قتل کرنے کا ایک منصوبہ بند کارروائی قرار دیا تھا۔
واضع رہے کہ آج بروز جمعہ کو رکھنی میں کوہ جاندر ان کے علاقے میں بلوچ سرمچاروں اور امن فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آ ئی تھیں۔
مذکورہ جھڑپیں صبح سات بجے کے قریب شروع ہوئیں جو نیوز پبلش ہونے تک جاری تھیں۔
ابھی سرکاری ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیںکہ بارکھان ڈیرہ بگٹی سرحد پر عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر بیکڑ سے لیویز اور مسوری قبائل کے لشکر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے بھائی میر آفتاب بگٹی اور حاجی خان محمد بگٹی کی قیادت میں عسکریت پسندوں کا تعاقب کر کے گھیر لیا۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جمعہ کی صبح سے عسکریت پسندوں اور قبائلی لشکر کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جھڑپوں کے دوران 4 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ دو زخمی ہوئے جن کی زندہ گرفتاری کے لئے کوششیں جاری ہیں۔
دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہلاک افراد کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا اور اور لاشوں کو قبائلی لشکر نے اپنی تحویل میں لے لیا۔اور ہلاک افراد کا تعلق ٓ کالعدم تنظیموں سے ہے۔
امن فورس کی کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہلاک عسکریت پسندوں کی لاشیں بلوچی روایات کے مطابق شناخت کے بعد ورثاء کےحوالے کی جائیں گی۔
پاکستانی میڈیا کو جاری کی گئی بیان میں دعوی کیا گیا کہ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت اس وقت بڑھی جب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اپنے آبائی علاقے بیکڑ میں موجود تھے۔
واضع رہے کہ اب تک کسی بھی بلوچ عسکریت تنظیم نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔