اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر کئی فضائی حملے کیے ہیں اور ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ڈرون پروڈکشن کو نشانہ بنایا ہے۔
جمعرات کی رات کو ہونے والے حملہ مسلمانوں کے اہم مذہبی تہوار عید الاضحی کے موقع پر کیا گیا ہے۔ اسرائیل نے حملے سے قبل علاقے کی عمارتوں کو خالی کرنے کے انتباہات جاری کیے تھے۔
اسرائیل کا دعوی ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کی موجودگی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اس علاقے میں زیر زمین حزب اللہ کے ڈرون تیار کرنے کے کارخانے کی نشاندہی کی تھی جو ایرانی حمایت سے ہزاروں ڈرون تیار کر رہا تھا۔
یہ حملہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گذشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ بندی کے باوجود ہوا ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ حملوں کی ’سختی سے مذمت‘ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لبنانی وزیر اعظم نواف اسلام کا کہنا تھا کہ ’میں مذہبی تہوار کی تعطیلات اور سیاحتی موسم کے موقع پر ان حملوں کو ہمارے وطن، اس کی سلامتی، استحکام اور معیشت پر ایک منظم اور جان بوجھ کر کیے جانے والے حملے کے مترادف سمجھتا ہوں۔‘
انخلا کے انتباہ کے بعد ہزاروں افراد گنجان آباد علاقے سے نکل گئے تھے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے حملوں کو ’بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ’مقدس مذہبی تہوار کے موقع پر‘ کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے کہا کہ حزب اللہ کا ’وسیع پیمانے پر ڈرون کا استعمال‘ اسرائیل پر حملوں میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا، اور ان سرگرمیوں کو ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان مفاہمت کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں اور ڈرون تیاری کے مرکز سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔