بلوچستان بھر میں بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف ایک منظم فوجی آپریشن کے نام پر شہری علاقوں میں ماسک اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری کے استعمال پر پابندیوں کا آغاز کردیا گیاہے۔
گذشتہ روز سوراب کی ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں عوام کو ماسک پہننے یا چہرہ ڈھانپنے اور موٹرسائیکل کی دبل سواری پر 10جون تک پابندی عائد کردی تھی۔
اب اطلاعات سامنے آر ہی ہیں کہ نوشکی کی ضلعی انتظامیہ نے بھی نوشکی میں ماسک و نقاب پوش ہوکر نقل و حرکت کرنے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائدکردی ہے ۔
اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر کے نام سے جاری کی گئی ایک نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں عوام کو مطلع کیا جارہا ہے کہ عالیہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر عوام پرماسک پہن کر یا چہرہ ڈھانپ کر نقل و حرکت پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے ۔
پبلک نوٹس میں ہدایت جاری کی گئی ہے کہ مورخہ 3 جون سے 10 تک موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر مکمل پابندی ہوگی۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان ہدایت پر سختی سے عمل پیرا رہیں۔
واضع رہے کہ بلوچ عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کے سوراب ، مستونگ شہروں پر مکمل کنٹرول اور ریاستی رٹ کے خاتمے کے بعدکوئٹہ میں حکومتی سرپرستی میں ایک جرگے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں پاکستان کے وزیر اعظم سمیت آرمی چیف بھی شریک تھے ۔
مذکورہ جرگے میں آرمی چیف بلوچ عسکریت پسندوں کے شہروں پر مکمل کنٹرول اور ریاستی رٹ کے خاتمے پر شدید آگ بگولہ ہوگئے تھے اور اس نے اپنی جذباتی تقریر میں فوری کارروائی کا عندیہ دیا تھاجس کے بعد ضلعی سطح پر ماسک ، چہرہ ڈھانپنے، ہیلمٹ اور ڈبل سواری کے استعمال پر مکمل پابندیوں کا آغاز کیا گیاہے ۔
جبکہ مذکورہ جرگے میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت پر زور دیا ہے لیکن عسکری حکام کی جانب سے اس کے اس خیال کو رد کیا گیا ۔
دوسری جانب بولان میں وسیع فوجی جارحیت اور ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
گذشتہ روزآئی ایس پی آر نے قلات اور مچھ میں فوجی آپریشن میں 7 عسکریت پسند وں مارے نے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ان میں 2 کی شناخت بطور جبری لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے۔
بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف ایک منظم فوجی آپریشن شروع کی گئی ہے ۔