بلوچستان کے علاقے خاران ، خضدار اور مستونگ میں عسکریت پسندوںکے تازہ حملوں میں فورسز اہلکاروں کی سرکاری اسلحات ضبط کرنے سمیت ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
خاران شہر میں شاہوانی چوک پر نامعلوم عسکریت پسندوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر کے انہیں یرغمال بنا کر غیر مسلح کر دیا اور ہتھیار لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔
جبکہ پولیس اہلکاروں کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ئے بغیر چھوڑ دیاگیا ۔
واقعہ آج بروز ہفتہ کے دوپہر ایک بجے کے قریب پیش آیا۔
اسی طرح خضدار کے علاقے نال میں آج بروز ہفتہ صبح گیارہ بجے عسکریت پسندوں نے حکومتی حمایت یافتہ امن فورس کے کارکنوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
تاہم معتبر ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے امن فورس کے کارندوں پر اُس وقت حملہ کیا جب وہ بازار میں گشت کر رہے تھے۔
کہا جارہا کہ حملے میں حملہ آوروں نے حکومتی مسلح ملیشیا کے کارکنوں کے ہتھیار بھی چھین لئے تھے۔
ادھر مستونگ میں ہفتے کی رات عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک مربوط حملے کے دوران سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
واقعہ مستونگ کے علاقے کڈکوچہ میں پیش آیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہےکہ عسکریت پسندوں کے ایک بڑے گروپ نے فوجی چوکی پر دھاوا بول دیااورجھڑپ 20 منٹ تک جاری رہا جس کے نتیجے میں نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
حکام کی جانب سے ان حملوں کے حوالے سے اب تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب کسی تنظیم نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔