کوئٹہ سے میڈیکل کا طالب علم فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ،جھائو میں لاپتہ نوجوان قتل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر شال سے پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں نے عیسا نگری سے میڈیکل کے طالب علم بہرام واحد ولد عبدالواحد کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا۔

ایک ہفتے میں درجنوں افراد کو جبری لاپتہ اور کئی کو دوران حراست قتل کرکے لاشیں پھینک دی گئیں۔

دوسری جانب ضلع آواران کے علاقے جھاؤ میں فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان کو قتل کرکے لاش پھینک دی گئی۔

مقتول کی شناخت درمان ولد رحیم بخش کے نام سے ہوئی ہے، جو جھاؤ کے علاقے چھبی کا رہائشی تھا۔

ذرائع کے مطابق درمان بلوچ کو دو روز قبل فوج نے دیگر افراد سمیت فوجی کیمپ میں طلب کیا تھا۔ بعد ازاں دیگر افراد کو تو رہا کر دیا گیا۔

اگلے روز اہلِ خانہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ درمان کو فوجی ہیڈکوارٹر میں دوبارہ پیش کریں۔

اہلِ خانہ کے مطابق جب وہ درمان کو لے کر واپس گھر جا رہے تھے، تو کیمپ کے قریب خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے درمان کو دوبارہ اغوا کر لیا۔

آج درمان کی تشدد زدہ لاش جھاؤ میں پھینکی ہوئی ملی ہے، جسے مقامی افراد نے شناخت کیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش پر بدترین تشدد کے نشانات موجود تھے۔

Share This Article