پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرستان میں ایک اور کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں 7 بچوں سمیت 22 افراد زخمی ہو گئے ہیں ، 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
گذشتہ دنوں 19 مئی کو شمالی وزیرستان کے میر علی کے گاؤں ہرمز میں کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے 4 بچے ہلاک اور 5 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔
حملے کے خلاف میر علی میں متاثرہ خاندان اور علاقہ مکینوں نے پاکستانی فوج کے خلاف لاشوں کے ساتھ دھرنا دیکر شدید احتجاج کیا اور ایک ہفتے تک جاری رہنے والی یہ دھرنا منگل کے روز مقامی انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیاگیا۔
اب ایک مرتبہ پھر اطلاعات ہیں کہ ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا میں کواڈ کاپٹر حملے کے نتیجے میں 7 بچوں سمیت 22 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
وانا کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) کی جانب سے جاری واقعے کی رپورٹ میں رات 8 بجے ’ڈرون حملے‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 13 سے 60 سال کی عمر کے 22 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ایک 13 سالہ بچے اور ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ 7 بچے زیادہ زخمی ہیں، جن کی عمریں 15، 18 اور 19 سال ہیں، اس کے علاوہ باقی 13 ’معمولی‘ زخمی ہوئے، جن میں سے دو کو فارغ کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی سے وابستہ ایم این اے زبیر خان وزیر نے ہسپتال کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ نوجوان والی بال کھیل رہے تھے جب کواڈ کاپٹر نے ان پر گولے برسائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے بعد علاقے کے لوگ خوفزدہ اور اپنے گھروں تک محدود ہو گئے۔
زبیر خان وزیرنے فیس بک پر ایک پوسٹ میں اس ڈرون حملے کی شدید مذمت کی، جس میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کریں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں جبکہ مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مذکورہ ڈرون حملے پاکستانی فوج کی طرف سے کئے جارہے ہیں جبکہ آئی ایس پی آر اس کی تردید کر چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے طالبان کی جانب سے کئے گئے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کواڈکاپٹر ڈرون طالبان جنگجوئوں کے پاس نہیں ہوتے بلکہ اس کے طرح ماڈرن ہتھیاروں کا استعمال صرف کوئی ملکی فوج ہی کر سکتی ہے ۔