بلوچ خواتین فورم نے ایک بیان میں بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں حالیہ دنوں میں بلوچ طلبا و نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فورم کی ترجمان کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران درجنوں کیسز سامنے آئے ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ملوث پائے گئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ریاستی ادارے بلوچ نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو یا تو جعلی مقابلوں میں مارا جا رہا ہے یا حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ دراصل بلوچ نسل کشی کو وسعت دینے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں متعدد نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے جن میں ناصر آباد تربت سے تعلق رکھنے والے قانون کے طالب علم زکریا کو 24 اور 25 مئی کی درمیانی شب کراچی کے ہزارہ گوٹھ سے اغواء کیا گیا۔ وہ ایک لاعلاج مرض انکائیلوسنگ اسپونڈلائٹس کے مریض ہیں۔
کوئٹہ کے معصوم شاہ ٹاؤن کے رہائشی ایمل اورنگ زیب کو 23 مئی کو ان کے گھر سے اہل خانہ کے سامنے اٹھایا گیا۔
کراچی کے مولا عیسیٰ گوٹھ کے رہائشی میر بلوچ جو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن ہیں انہیں 20 مئی کو جام گوٹھ سے دوبارہ لاپتہ کیا گیا۔
مستونگ سے تعلق رکھنے والے عبید حسین جنہیں 24 مئی کی صبح ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔ اہل خانہ نے احتجاجاً سڑک بلاک کی جس پر انتظامیہ نے چار دن میں بازیابی کی یقین دہانی کروائی۔
محمد اسحاق اور عبدالرزاق، کوئٹہ کے کلی منگل آباد کے رہائشی دو بھائی ہیں جنہیں 24 مئی کو گرفتار کیا گیا اور ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
پسنی ریک پوشٹ کے رہائشی گوھر بخش جو ایک حجام کی دکان پر کام کر رہے تھے 24 مئی کو اغواء کیے گئے۔
جیئند لیاقت تربت کے علاقے بگ کے رہائشی ہیں نہیں 25 مئی کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
تمپ کے علاقے ملک آباد سے تعلق رکھنے والے عنایت اللہ جو ایک نوعمر نوجوان ہیں انہیں 25 مئی کو ریاستی پشت پناہی رکھنے والے اسکواڈز نے اٹھایا۔
بلوچ خواتین فورم نے ان تمام واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال بگڑتی جا رہی ہے اور یہ پالیسیاں بلوچ عوام کے خلاف کھلی دشمنی کے مترادف ہیں۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو فی الفور بند کیا جائے اور بلوچ عوام کو ان کا آئینی و انسانی حق دیا جائے۔