تربت : 12 سالوں سے ریاستی مظالم کے شکار خاندان کی پریس کانفرنس،طالب علم کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے بگ سے تعلق رکھنے والے خاندان جو گذشتہ 12 سالوں سے متواتر ریاستی مظالم وبربریت کا شکار ہے نے ہنگامی پریس کانفرنس کر کے پاکستانی فورسز کے مظالم اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

ہانی بلوچ نے درجنوں خواتین کے ہمراہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان 2013 سے ریاستی جبر کا مسلسل نشانہ بن رہا ہے۔

ہانی بلوچ نے کہا ہمارے گھروں پر بارہا چھاپے مارے گئے، خواتین کو ہراساں کیا گیا اور نوجوانوں کو اٹھایا گیا۔ سن 2014 میں ہمارے پانچ افراد کو اٹھا کر دو ہفتے تک شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جنہیں نیم مردہ حالت میں واپس چھوڑا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 2017 میں ان کے بڑے بھائی اقبال بلوچ کو اغوا کیا گیا جنہیں 14 ماہ بعد شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کے بعد رہا کیا گیا۔ ہم نے ان کی جان بچانے کے لیے انہیں دبئی منتقل کر دیا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جیئند بلوچ جس کا گھریلو نام عدنان ہے جو تربت یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم ہیں گزشتہ رات فورسز نے ہمارے گھروں پر چھاپہ مارا اور عدنان بلوچ کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا۔ وہ ایک محنتی طالب علم تھا جو صرف اپنی تعلیم پر توجہ دیتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کو محض اس بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ان کے بڑے بھائی ناصر بلوچ ایک سیاسی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی رہنما ہیں۔ اگر ریاست جیئند کو صرف رشتہ داری کی بنیاد پر مجرم سمجھتی ہے تو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، چھاپوں اور اغوا کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

آخر میں، ہانی بلوچ نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ جیئند بلوچ کو تین دن کے اندر بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا جائے بصورت دیگر ہم غیر معینہ مدت کے لیے احتجاج اور دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔

Share This Article