بلوچستان کے مرکزی کوئٹہ ، مستونگ اور خضدار سے پاکستانی فورسز نے مزید 4 افرادکو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا جبکہ 3 لاپتہ افراد فورسز کی اذیت گاہ سے بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔
کوئٹہ میں فورسز نے ایک رہائشی علاقے میں چھاپہ مار کر 2 نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
آج رات 24 مئی 2025 کو رات تقریباً 2 بجے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کلی مینگل آباد کے ایک گھر پر چھاپہ مارکر محمد اسحاق اور عبدالرزاق کو گرفتار کیا ہے۔
دونوں نوجوان بھائی بتائے جاتے ہیں جن میں سے ایک پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور جبکہ دوسرا طالب علم ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے دونوں نوجوانوں کا کوئی پتہ نہیں، اور حکام کی جانب سے ان کی حراست کی تصدیق یا کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔
اسی طرح مستونگ میں آج رات 24 مئی کوفورسز نے ساکن کلی دتو میں کو صبح فجر کے وقت 5 بجے کے قریب ایف سی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مار کر اہل خانہ کو ہراساں کیا، موبائل فونز اور دیگر اشیاء قبضے میں لیں اور عابد حسین اور ان کے بھائی کو حراست میں لے گئے ۔
بعد ازاں راستے میں بھائی کو چھوڑ دیا گیا جبکہ عابد حسین کو لاپتہ کر دیا گیاہے۔
دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) خضدار زون کے صدر، ماجد بلوچ کو جمعے کی شب ان کے گھر سے فورسز نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
دریں اثنا مستونگ کے علاقے اسپلنجی سے لاپتہ ہونے والے غلام مصطفیٰ قلندرانی اور نثار احمد، جبکہ درینگڑھ سے بابو علی محمد بازیاب ہوکر گھروں کو پہنچ گئے۔