جبری لاپتہ ایمل کےوالدہ ماہ جبین نے اپنے شوہر اورنگزیب، بیٹی فاطمہ اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے ہمراہ احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج ایک ماں کی حیثیت سے آپ سب کے سامنے کھڑی ہوں، دل میں ایک ایسا درد لیے جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ میری گود کا چراغ، میرا بیٹا، ایمل ولد اورنگزیب، جو ایک عام طالبعلم تھا، اسے 23 مئی کی رات ریاستی اداروں کے اہلکار گھر سے اغوا کر کے لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ہم پر ایسی قیامت ثابت ہوگئی جسے ہم کبھی نہیں بھول سکیں گے۔ سادہ لباس میں ملبوس مسلح اہلکار ہمارے گھر میں داخل ہوئے، نہ کوئی وارنٹ، نہ کوئی قانونی دستاویز، صرف خوف، بندوقیں اور درندگی کی انتہا وہ میرے بیٹے کو میرے سامنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ جب ہم نے مزاحمت کی، سوال اٹھایا تو ہمیں دھکے دیے گئے، غلیظ گالیاں سننے کو ملیں، سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح اہلکاروں نے ہمارے موبائل فون تک چھین لیے تاکہ ہم کسی کو مدد کے لیے پکار نہ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ میری بیٹی فاطمہ بلوچ، جو ایک نڈر، کم عمر مگر باشعور بچی ہے، ہمیشہ بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے، جلسوں، دھرنوں اور ریلیوں میں شامل رہی ہے، ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کیا، ریاستی آئین کے تحت ہی بلوچ گمشدہ افراد کی بازیابی اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ آج میں سب سے یہ سوال کرتی ہوں کہ کیا ایک ماں کی آغوش میں پیدا ہونے والی ایسی بچی کو سزا دی جا رہی ہے جو ملکی آئین کے تحت اپنے گمشدہ بلوچ بھائیوں کے لئے صدائے انصاف بلند کررہی ہے؟ ۔کیا یہی اس کی ہمت کا صلہ ہے کہ انکے بھائی کو چھین لیا جائے؟
جبری لاپتہ ایمل کے ولدہ نے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمیاں ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس بنیادی حق کو ہم سے نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ کسی کو ہم یہ حق دیں گے کہ وہ ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرکے ہمیں ہمارے بنیادی حقوق کی جد و جہد سے دستبردار کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ آخر ہم کہاں جائیں؟۔ہم کن دروازوں پر دستک دیں؟
ان کا کہنا تھا کہ میں آپ سب کے توسط سے ریاست اور مقتدر قوتوں یہ مطالبہ کرتی ہوں کہ:
1.میرے بیٹے ایمل کو فوری طور پر بازیاب کیاجائے اور انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
2.ہمارے گھر پر حملہ کرنے اور چادر و چاردیواری کو پائمال کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
3.فاطمہ اور میری باقی اولاد کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ وہ اس ریاست کے اندر کوئی اور نہیں محض سچ بولنے کا جرم کر رہے ہیں۔
4.جبری گمشدگی جیسے مظالم کا خاتمہ کیا جائے، اور ان کا شکار بننے والے خاندانوں کو انصاف دیا جائے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو مخاطلب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک ماں ہوں، باقی ماؤں کی طرح میرا بیٹا بھی میری آنکھوں کا نور ہے۔ لہذا میں اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھوں گی جب تک میرے بیٹے کو واپس نہ لایا جائے۔میں جانتی ہوں میں تنہا نہیں، میرے ساتھ ہر وہ ماں ہے جو اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے، اور ہر وہ انسان ہے جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے، مجھے امید ہے کہ سارا بلوچستان سمیت انسانی حقوق و اقدار پر یقین رکھنے والے تمام انسان دوست میرے ساتھ میری اس جد و جہد میں کھڑے رہیں گے۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے ایمل کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایمل کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں ماورائے قانون گرفتاری اور انکے والدین پر تشدد کا نوٹس لے ذمہ داروں کو انصاف کے کھٹرے میں لانے کے لیے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے اور 17 سالہ کمسن طالب علم ایمل کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنا کر انکے خاندان کو کرب و اذیت سے نجات دلائے۔