یہ متن سینئر صحافی اور تجزیہ کار سحر بلوچ کی ایک ویڈیو تجزیے کی باقاعدہ ٹرانسکرپشن ہے، جس میں انہوں نے خطے میں جاری ایران جنگ اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور ایران کی دونوں اطراف میں موجود بلوچ آبادی اور بلوچ تحریکِ آزادی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ادارے نے اس تجزیے کو تحریری شکل میں منتقل کر کے سنگر نیوز کے قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لیے پیش کیا ہے۔ادارہ
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سحر بلوچ کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے، اور اس کے اثرات پاکستان اور ایران کے بلوچ علاقوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق بلوچوں کی کوئی ایک مشترکہ یا متحد پوزیشن موجود نہیں، کیونکہ مختلف حالات اور تجربات نے بلوچ معاشرے کو مختلف زاویوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔
سحر بلوچ کہتی ہیں کہ بلوچستان کے عام شہری کسی بھی علاقائی جنگ کے حامی نہیں۔وہ پہلے ہی معاشی مشکلات، سیکیورٹی خدشات اور ریاستی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے خطے میں بڑھتی کشیدگی کو وہ ایک نئے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق عام بلوچوں کی بنیادی ترجیح امن، تحفظ اور روزمرہ زندگی کا استحکام ہے۔
پاکستان کی حکومت نے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے، جس کے بعد ملک میں عمومی فضا امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف نظر آتی ہے۔ تاہم سحر بلوچ کے مطابق اس کا یہ مطلب نہیں کہ بلوچ عوام لازمی طور پر ایران کے حامی ہیں۔
سحر بلوچ کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی پوزیشن عام آبادی سے مختلف ہے۔پاکستان اور ایران دونوں میں سرگرم کچھ مسلح تنظیمیں دونوں ریاستوں کو اپنے خلاف سمجھتی ہیں۔ان کی کسی عالمی طاقت سے نظریاتی وابستگی نہیں، لیکن وہ خطے میں جاری کشیدگی کو اپنے لیے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھ سکتی ہیں۔
ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں رہنے والے بلوچ زیادہ تر سنی ہیں اور ایک شیعہ اکثریتی ریاست میں تاریخی محرومی کا سامنا کرتے آئے ہیں۔
سحر بلوچ کے مطابق عام ایرانی بلوچ بھی جنگ کے مخالف ہیں، جبکہ جیش العدل جیسے گروہ ایران کے خلاف سرگرم ہیں اور موجودہ صورتحال کو ایران کو کمزور کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کے حامی ہیں۔
سحر بلوچ اس خیال کا بھی ذکر کرتی ہیں کہ بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ بڑی طاقتیں ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بلوچ یا دیگر اقلیتوں کو استعمال کر سکتی ہیں، لیکن ان کے مطابق اس کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں اور اکثر یہ دعوے مبالغہ آمیز ہوتے ہیں۔
سحر بلوچ کے مطابق خطے میں جاری ایران امریکہ کشیدگی مستقبل میں بلوچ سیاست کو کئی سطحوں پر متاثر کر سکتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں عسکریت میں اضافہ اور ایران و پاکستان دونوں کی جانب سے سیکیورٹی سخت کیے جانے کا امکان ہے، جس سے بلوچ علاقوں میں فوجی موجودگی مزید بڑھ سکتی ہے اور عام لوگوں پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو ایرانی بلوچ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں تیزی آسکتی ہے اور سرحدی روابط بھی بڑھ سکتے ہیں، جس سے خطہ مزید حساس ہو جائے گا۔ اسی کے ساتھ عالمی میڈیا اور پالیسی حلقوں میں بلوچ مسئلے پر توجہ بڑھنے کا امکان ہے، جو ایک طرف اسے عالمی سطح پر نمایاں کرے گا اور دوسری طرف ریاستی بیانیے کو مزید سخت بنا سکتا ہے۔
سحر بلوچ کے مطابق پاکستان اور ایران دونوں بلوچ تحریکوں کو سیکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں، اس لیے سیاسی اسپیس مزید محدود ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں بلوچ سیاست کے اندرونی اختلافات بھی گہرے ہو سکتے ہیں، جہاں کچھ گروہ مزاحمت کو تیز کریں گے جبکہ کچھ امن اور سیاسی راستے کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں گے۔
سحر بلوچ کہتی ہیں کہ ایران اور امریکہ کی کشیدگی میں بلوچوں کے لیے معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔یہ صرف یہ فیصلہ کرنے کا سوال نہیں کہ وہ کس کی طرف ہیں۔
عام بلوچ عوام امن اور تحفظ چاہتے ہیں، پاکستان کے اندر عمومی فضا امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے خلاف ہے، جبکہ بلوچ مسلح گروہ دونوں ریاستوں کے مخالف ہیں اور حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ تنازع آنے والے وقت میں بلوچ سیاست کو مزید پیچیدہ، دباؤ کا شکار اور عالمی سطح پر زیادہ نمایاں بنا سکتا ہے۔
٭٭٭