بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پاکستانی فورسز نے ایک طالب علم کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
طالب علم کی شناخت ایمل اورنگزیب کے نام سے ہوگئی ہے ۔
واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آیا ۔جہاں فورسز نے ایمل کے گھر پر چھاپہ مارا اور اسے اہلِ خانہ کے سامنے حراست میں لے کر لے گئے ، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔
ایمل اورنگزیب آٹھویں جماعت کا طالبعلم ہے اور معروف کمسن انسانی حقوق کے سرگرم کارکن فاطمہ بلوچ کا بڑا بھائی ہے۔
فاطمہ بلوچ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت حراستوں اور ریاستی جبر کے خلاف نکلنے والی تمام احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں شریک رہتی ہیں۔
ریاستی فورسز کی جانب سے جاری جبری گمشدگیوں کی انسانیت سوز پالیسی میں زیادہ تر نشانہ طالب علم ہیں۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں سیاسی ونظریاتی وابستگی کے باعث انتقاماً لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔