چھ دہائیوں سے ہندوستان کے طول وعرض میں محنت کار انسانوں، مظلوم کسانوں، آدی واسی قبائل سمیت کچلی گئی سماجی پرتوں کے طبقاتی دشمنوں کے خلاف بندوق بدست برسرِ نکسل باڑی تحریک کے روحِ رواں ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ اسٹ) کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے سربراہ کامریڈ نبالا کیشوا راؤ عرف بسو راجو اپنے 26 انقلابی رفقاءکے ہمراہ فاشسٹ ہندی ریاست کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں چھتیس گڑھ کے علاقے میں قتل کر دیے گئے ۔کامریڈ بسو راجو ایک کمیونسٹ گوریلا لیڈر کے طور پر بندوق تھامے اپنے جانباز ساتھیوں کے ہمراہ دشمن سے لڑتے ہوئے میدان جنگ میں کام آئے یا پھر دشمن فوج نے انھیں گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا ؟ یہ ابھی واضح نہیں ہے ۔نکسل باڑی تحریک کی مخالف سمت میں کھڑی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا CPI نے بھی اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ1972میں کلکتہ کے لال بازار تھانے میں نکسل باڑی تحریک کے بانی کامریڈ چارو مجمدار کی پولیس کے ہاتھوں ماورائے قتل اورسریکا کولم کے بدنام زمانہ قتل عام سے لے کر آج تک،اندرا گاندھی راجیو گاندھی اور واجپائی سے لے کر منموہن سنگھ اور مودی سرکار تک نے نکسل انقلابیوں کے خلاف ماورائے عدالت قتل عام کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ۔چہرے پر سیکولر ازم کی نقاب اوڑھے ہوئے بھارتی صنعتی بورژوازی کی نمائندہ کانگریس ہو یاہندو توا کے گھوڑے پر سوار پراپرٹی کلاس کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلانیہ فاشسٹ سرکار ہو ،نکسل انقلابیوں اور آدی واسی قبائل کے لیے ان میں کوئی فرق نہیں ہے کہ ایک سال کے دوران بھارتی فوج چار سو سے زائد افراد کو نکسلی قرار دے کر قتل کرچکی ہے ۔
یہ خبر درست ہے کہ ہمارے عہد کا یہ عظیم کمیونسٹ سورما ،نکسلائٹ مزاحمت کار ،کامریڈ چے گویرا سے لے کر کامریڈ چارومجمدار تک سے رشتہ ءفکر وعمل نبھاتے ہوئے راہی ملک عدم ہوا ۔وہ ایک گوریلا رہنما تھا اور آخر دم تک نفرت انگیز طبقاتی دشمنوں کی فاشسٹ ریاست کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اسی حیثیت اور انقلابی شان سے رخصت ہوا ۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ان کی موت کو” ماؤ نواز باغیوں کے سب سے بڑے رہنما کی ہلاکت“ قرار دیا ہے۔جبکہ مودی نے ایکس یعنی سابقہ ٹوئٹر پر ”اس شاندار کامیابی پر اپنی فورسز پر فخر “ کا اظہار کیا ہے ۔آج بھارتی ریاست اور اس کے ڈھنڈورچی زرد میڈیا کی طرف سے اسے ”ایک تاریخی“ کامیابی قرار دیتے ہوئے نکسل واد کے خاتمے کے اعلانات جاری ہیں ۔کیا یہ نکسل باڑی تحریک کا خاتمہ ہے ؟ کیا کامریڈ بسو راجو واقعی نکسل باڑی مزاحمت کا آخری چہرہ تھا ؟ کیا یہ لڑائی جو اس سے بھی بدترین حالات میں چھ دہائیوں کا تسلسل ہے وہ ہند کے انقلابی فرزند ہار چکے ہیں ؟۔جہاں تک ان دعوؤں کا تعلق ہے تو 53برس قبل کامریڈ چارو مجمدار کی شہادت کے بعد بھی اسی طرح کے دعوے کیے گئے تھے ، ایک زمانہ گزرا جب سریکا کولم میں نکسل انقلابیوں کے منظم قتل عام کے بعد اندرا گاندھی نے بھی بصد غرور نکسل باڑی تحریک کو دفن کرنے کا اعلان کیا تھا تاوقتیکہ وہ خود اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں توپ دم ہوئیں ،نکسل باڑی کی بربادی کے خواب دیکھنے والا راجیو گاندھی اپنی پالیسیوں کے مارے ایک تمل کے ہاتھوں خود ہی چیتھڑوں میں تبدیل ہوا ،نرسماراؤ سے لے کر واجپائی اور منموہن سنگھ تک سارے طبقاتی دشمن تاریخ کے کچرا گھر جا پہنچے لیکن نکسل باڑی تحریک ہر بار دیومالائی پرندے ققنس کی طرح اپنی ہی راکھ سے دوبارہ جنم لیتی آرہی ہے ۔نکسل باڑی تحریک کے خلاف سلوا جدوم کے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ سے لے کر آپریشن گرین ہنٹ اور فاشسٹ مودی سرکار کے آپریشن پرہری ،آپریشن لنکا پاڈی اور موجودہ آپریشن بلیک فاریسٹ تک کوئی بھی نسخہ نکسل انقلابیوں کے حوصلوں اور قربانیوں کی ریت کے تسلسل کو نہیں توڑ سکا ہے ۔
2010میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماؤاسٹ کے مرکزی رہنما کامریڈ چیرکوری راج کمار جو کامریڈ آزاد کے نام سے معروف تھے ،انھیں ایک جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا ،اس کے ایک سال بعد پارٹی کے رہنما کامریڈ مالوجولا کوتیشور عرف کامریڈ کشن جی بھی ایک جعلی مقابلے میں قتل کیے گئے ۔تین سال قبل کامریڈ مہیش عرف دھرما بھی اسی طرح قتل کیے گئے ۔ہر بار نکسل واد کے دفنانے کے اعلانات ہوئے لیکن نکسل واد زندہ وپائندہ ہے ۔ کامریڈ نبالا کیشوا راؤ عرف بسوراجو کی شہادت کو اگر کوئی نکسل باڑی تحریک کا خاتمہ سمجھتا ہے تو وہ غلطی پر ہے کیونکہ نکسل باڑی تحریک محض ساٹھ سال کی کہانی اور تسلسل نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں برصغیر کے کسانوں کی عظیم تاریخی بغاوتوں اور انقلابی تحریکوں میں پیوست ہیں ۔یہ 58برس قبل مغربی بنگال کے نکسل باڑی نامی ایک گاؤں سے شروع ہونے والا اندولن بھی نہیں ہے ،یہ ساٹھ کی دہائی میں عالمی کمیونسٹ تحریک میں خروشچیف ٹولے کی ترمیم پسندی اوراس کے جلو میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی تاریخی خیانتوں کے خلاف محض ایک ردِ عمل کی پیداوار بھی نہیں ہے ۔ بلکہ نکسل واد کی تاریخی جڑیں1855میں جھاڑ کنڈ،بہار کے قبائلی کسانوں کی مسلح سانتھال بغاوت ،1859میں انگریز سامراج کی زبردستی نیل کی کاشت پالیسی کے خلاف بنگال کی نیل کسان بغاوت اور بیسویں صدی میں غدر پارٹی کی انقلابی روایات سے لے کر بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی جدوجہد تک ، بنگال کی سرزمین پر جنم لینے والی کسانوں کی عظیم تبھاگا موومنٹ اور حیدر آباد دکن کی تلنگانہ کسان بغاوت تک کا تاریخی تسلسل ہے ۔ایک ایسی تحریک جو عوام سے جڑی ہوئی ہے اور اپنی تاریخی جڑیں رکھتی ہیں ۔کامریڈبسوراجو شہید ہمارے عہد میں اسی تاریخی تسلسل کا مظہر تھا ، جو ہر عہد میں محنت کار مظلوم انسانوں کے درمیان کبھی بھگت سنگھ ، کبھی کامریڈ میر داد، کبھی کامریڈ رنگا چاری ، کبھی کامریڈ چارو مجمدار ،کبھی کامریڈ کشن جی اور کبھی کامریڈ بسوراجو کی صورت میں متشکل ومجسم ہوکر ” طبقاتی دشمنوں کو نابود کر دو “ کا نعرہ بلند کرتا ہے اور بندوق بدست ،پوری قوت کے ساتھ ان سے ٹکراتا ہے ۔
آج ہندوتوا فاشسٹ مودی سرکار اور اس کے ہمنوا کامریڈ بسو راجو کی شہادت پر خواہ جتنے گھی کے چراغ روشن کر لے،اپنی عوام دشمن جنگ کو مزید خونریز بناتے ہوئے اس کا دائرہ جتنا وسیع کر لے یہ امر طے ہے کہ یہ انقلابی تحریک کسی فرد واحد کی پیداوار ہے اور نہ ہی یہ کسی ایک فرد کی شہادت سے ختم ہو گی، خواہ اس فرد کی زندگی کامریڈ بسو راجو کی طرح عوام اور انقلاب کے لیے کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو۔یہ پہلا موقع نہیں جب اس تحریک نے اپنا کوئی ممتاز انقلابی رہنما کھویا ہو۔ یہ پہلا موقع نہیں جب حکمران طبقات نے اس پر جشن منایا ہو۔ مگر ہر بار یہ جشن وقتی ثابت ہوا۔ ہر بار وہ نکسل واد کو اپنے فسطائیت پر مبنی راج کے لیے سب سے بڑا خطرہ تسلیم کرنےپر مجبور ہوئے۔
فاشسٹ بھارتی ریاست کی پروپیگنڈا مشین، اس کا نام نہاد میڈیا اور فلمی انڈسٹری تک نکسل انقلابیوں کی جو تصویر پیش کرتی ہے اس کے برعکس ان انقلابیوں اور ان کے رہنماؤں کی زندگیوں پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ کیوں شہری علاقوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے کیرئیر اور زندگیوں سے بے نیاز ہوکر اس تحریک میں شامل ہونے کے لیے سرخ راہدای کا رخ کرتے ہیں ۔ خود اس سوال کا جواب ہمیں کامریڈ بسوراجو کی انقلابی زندگی سے بخوبی ملتا ہے ۔ایک ایسی زندگی جو طبقاتی دشمنوں کے خلاف لکھوکھا محنت کار انسانوں کے لیے وقف تھی ۔
کامریڈ بسوراجو کے نام سے معرف نبالا کیشوا راؤ 1955میں آندھرا پردیش کے علاقے سریکا کولم میں ایک اسکول ٹیچر کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ورنگل کے ریجنل انجینئرنگ کالج سے بی ٹیک کی ڈگری لینے والا یہ نوجوان جو کالج میں کبڈی کا ایک زبردست کھلاڑی بھی تھا ، اس کی زندگی میں تبدیلی کا آغاز19سال کی عمر میں ہوتا ہے،یہ 1969کا سال تھا جب اس نے اپنے علاقے سریکاکولم میں بھارتی فوج کو نکسل باڑی تحریک کے پھیلاؤ کے دوسرے بڑے مرحلے کو کچلتے دیکھا ۔سریکا کولم کے بہادر انقلابیوں ، کسانوں اور آدی واسیوں کی یہ سرفروشانہ جدوجہد ہمیشہ کے لیے اس کے شعور کا حصہ بن گئی ۔طالبعلمی کے زمانے میں ہی بائیں بازو کی سیاست میں داخل ہوتے ہوئے وہ کالج کی ریڈیکل اسٹوڈنٹس یونین سے وابستہ ہوا اورجلد ہی اس کا صدر منتخب ہوا ۔ کالج کے زمانے میں اس نے ہندو توا کی علمبردار RSSکے طلبہ ونگ ABVPسے براہ ِ راست ٹکر لی اور اس دوران گرفتار بھی ہوا ۔ستر کی دہائی کے آخر تک وہ نکسلائٹ افکار کی حامل ”کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ،مارکسسٹ ،لینن اسٹ“سے مکمل طور پر جڑ چکا تھا جو بعد ازاں پیپلز وار گروپ کے نام سے معروف ہوئی ۔یہی وہ زمانہ تھا جب انجینئرنگ کی ڈگری لینے والے اس نوجوان نے کل وقتی انقلابی کارکن بنتے ہوئے اپنے گاؤں کو خیر باد کہا ۔ کامریڈ بسوراجو نے مارکسزم ،لینن ازم کی تعلیمات بخوبی جذب کیں اور ماؤزے تنگ کی گوریلا سائنس سے بخوبی استفادہ کیا ۔اس کا شمار تنظیم کے اہم منتظمین اور کمانڈروں میں ہوتا تھا اور وہ جدید گوریلا حکمت عملیوں میں نظری وعملی مہارت رکھتا تھا ۔اس نے کامریڈ کشن جی ،کامریڈ راجی ریڈی جیسے نکسلائٹ رہنماؤں کے ساتھ بستر کے جنگلات میں گوریلا جنگ کے داؤ پیچ سیکھے تھے ۔1992میں کامریڈ بسوراجو پیپلز وار گروپ کی مرکزی کمیٹی کی رکنیت حاصل کر چکے تھے ۔2004 میں جب سی پی آئی ML، پیپلز وار گروپ اور ماؤاسٹ کمیونسٹ سینٹر آف انڈیا کے انضمام سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤاسٹ) کا قیام عمل میں آیا تو انہیں پارٹی کی مرکزی فوجی کمیشن کا سربراہ اور پولٹ بیورو کا رکن منتخب کیا گیا، کیونکہ وہ گوریلا حکمت عملیوں کے ماہر جانے جاتے تھے۔
بھارتی ریاست انھیں چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور اوڈیسہ میں ماؤوادی حملوں کا ماسٹر مائنڈقرار دیتی تھی۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ 2010 میں دانتی واڑہ حملے کی قیادت بھی انھوں نے ہی کی تھی جس میں سی آر پی ایف کے 76 اہلکار مارے گئے تھے۔ مزید برآں جیرم گھاٹی حملہ بھی ان سے منسوب کیا جاتا ہے، جس میں سابق وزیر مہندر کرما اور چھتیس گڑھ کے کانگریس رہنما نند کمار پٹیل سمیت 27 افراد مارے گئے تھے۔نومبر 2018میں جب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ- اسٹ)کے اساطیری شہرت کے مالک جنرل سیکریٹری کامریڈ گنپتی خرابیِ صحت کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تو کامریڈ بسوراجو کو پارٹی کا نیا جنرل سیکریٹری چنا گیا اور اپنی شہادت 21مئی2025تک وہ اس ذمہ داری سے عہد برا ہوتے رہے ۔
بھارت کی ہندو توا کی ماری فاشسٹ ریاست کے نزدیک کامریڈ بسو راجو ایک دہشت گرد تھا جس کے سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے مقرر تھی لیکن انقلابی نظریات کے بموجب وہ محنت کار انسانوں، کسانوں، آدی واسی قبائل کا ایک انقلابی ہیرو تھا ۔اس نے ان مظلوم طبقات کے حق میں ظالم کے خلاف بندوق اٹھائی تھی ،یہ طبقے کی بندوق تھی جس نے انقلاب کا پیغام داغا تھا اوریہ پیغام فضائے ہند میں گونجتا رہے گا ۔کامریڈ بسو راجو کی بندوق نہ خاموش ہوئی ہے نہ گری ہے اس کے ہزاروں، لاکھوں کامریڈ اسے تھامے رہیں گے تاوقتیکہ اس سرخ سویرے کا ظہور ہو جس کے لیے ہمارے خطے کے بے شمار انقلابی دار ورسن کی آزمائشوں سے بخوبی گزرے اور گزر رہے ہیں ۔ کامریڈ بسو راجو کا انقلابی آدرش نہ صرف بھارت بلکہ اس پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی شکتی رکھتا ہے ۔
نکسل وادیوں کے مشہور نعرے کے بموجب "نکسل باڑی کبھی نہیں مرے گا!”
***