بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی بلوچوں کے خلاف جبری گمشدگی کی کارروائیوں میں ہوشربا اضافہ اور شدت سے بلوچ سماج میں خوف وہراس کا عالم ہے ۔
سنگر نیوز ڈیسک کو ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گوادر،پسنی اور چاغی سے فورسز نے مزید 4 نوجوانوں کو حراست میں لیکرجبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
ساحلی شہر گوادر میں ٹی ٹی سی کالونی سے فورسز نے گھروں پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران فیروز اور شے مرید ولد منیر ایڈوکیٹ نامی 2 نوجوانوں کو تشدد اک نشانہ بنا کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔
لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی عمریں سولہ اور پندرہ سال بتائی جارہی ہیں ۔
علاقے مکینوں کا کہنا ہے کہ فورسز کی بڑی تعداد نے علاقے گھیراؤ کیا اور اس دوران خواتین پر بھی تشدد کیا گیا اور گھروں میں تھوڑ پھوڑ بھی کیا ۔
لواحقین نے انکی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ، انہیں خدشہ ہے کہ دیگر زیر حراست افراد کی طرح انکے بچوں کو کسی جعلی کیس یا مقابلے میں مارا نہیں جائے ۔
واضح رہے کہ گوادر سے چوبیس گھنٹوں کے دوران ابتک چار جبری لاپتہ کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ، جنھیں غیر قانونی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے۔
اسی طرح پسنی اور چاغی سے 2 نوجوانوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
پسنی سے لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت وقارولد باہوٹ وارڈ نمبر 1 کے نام سے ہوگئی ہے جو ایک طالب علم ہے ،جسے گذشتہ روز13 مئی کو میں بازار میں شام 8 بجے حراست میں لیکر لاپتہ کیا گیا۔
جبکہ چاغی سے لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت مقصود احمد ولد حاجی علی احمد کے نام سے ہوگئی ہےجو کلی شے سالار کا رہائشی ہے اور پیشے کے لحاظ سے کسان ہے ۔
مقصو د احمد کو گذشتہ روز پیر 12 مئی کو رات 3 بجے فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے حوالے سے اب کوئی خبر نہیں ہے۔