قلات ، سبی، گوادر اور کراچی سے 9 افراد جبری لاپتہ ، ایک نعش برآمد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے قلات ، سبی، گوادر اور کراچی سےپاکستانی فورسز نے 9 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ قلات سے ایک نعش برآمدہوئی ہے تاحال اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔

بلوچستان کے اضلاع قلات اور سبی سے فورسز نے 6 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

قلات کے علاقے گراپ میں فورسز نے ایک فوجی جارحیت کے دوران 5 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے 3 کی شناخت جمال الدین، عطا اللہ اور لطیف کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دیگر دو افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ضلع سبی میں صادق خان ولد عبدالستار خجک نامی نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق صادق خان کو چار روز قبل ان کی دکان سے فورسز اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

اسی طرح ساحلی شہر گوادر سے فورسز نے 2 نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔

جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت شعيب ولد رفيق اور حفيظ ولد موسیٰ کے نام سے ہوگئی ہے ۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو فورسز نے ٹی ٹی سی کالونی سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے ۔

جبکہ گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ پر فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاپتہ نوجوان کی شناخت عبدالواحد ولد در محمد کے نام سے ہوئی ہے جو بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے پیراندار کا رہائشی ہے۔

کہا جارہا ہے کہ انہیں ایئرپورٹ کے اندر امیگریشن کلیئرنس کے بعد حراست میں لیا گیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

لواحقین نے عبدالواحد کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے حکام سے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا ضلع قلات کے علاقے چھپر توغو ایریا میں سڑک کنارے ایک نوجوان کی نعش برآمد ہوئی ہے۔

لیویز ذرائع کے مطابق نعش کو تحویل میں لے کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قلات منتقل کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جس کے لیے نعش کو ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔

مزید کارروائی لیویز حکام کی جانب سے جاری ہے۔

Share This Article