بلوچستان کے علاقے خضدار اور گوادرسے 15 سالہ نوجوان سمیت 2 افراد لاپتہ ہوگئے ۔اسی طرح کراچی سے پاکستانی فورسز نے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے سابق چیئرمین شعیب بنگلزئی کو حراست میں لیکر جبری طور لاپتہ کردیا ہے ۔جبکہ تربت ڈنک سے ایک لاپتہ شخص بازیاب ہوگیاہے۔
کراچی سے سادہ لباس میں ملبوس افراد نے گذشتہ روز دوپہر تقریباً 2 بجے گلشن اقبال میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے سابق چیئرمین شعیب بنگلزئی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، شعیب بنگلزئی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ گلشن اقبال میں موجود تھے۔
خیال رہے کہ شعیب بنگلزئی بلوچ طلبہ سیاست میں سرگرم رہے ہیں اور وہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے سابق چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
ان کے اہل خانہ نے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی گمشدگی باعث تشویش ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے دشت ہورشولیگ کے رہائشی طاہر ولد اللہ بخش کو گوادر سے پاکستان کوسٹ گارڈ نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
فیملی کا کہنا ہے کہ گذشتہ پیرکے روز سے طاہر اللہ بخش گوادر سے لاپتہ ہیں۔ان کے پاس ایک گاڑی تھی جس پر وہ تیل کاکاروبار کرتا تھا۔
خاندانی ذرائع نے کہا ہے کہ پیرکے روز طاہر اللہ بخش گوادر میں تھااور وہ اپنی گاڑی کو مرمت کیلئے گیراج لے گیا تھا جس کے بعد سے غائب ہیں۔
خاندان نے کہا ہے کہ ہم نے جب پوچھ گچھ کی تو کوسٹ گارڈ نے اعتراف کیاگیا تھا کہ وہ طاہر کو رہا کرینگے۔لیکن دوسری مرتبہ رابطہ کرنے پر وہ مکھر گئے۔
انہوں نے اپیل کی ہے کہ طاہر کاروباری نوجوان ہیں جنہیں کسی قسم کی سیاسی لین دین سے تعلق نہیں اس لئے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اسی طرح ضلع خضدار کے علاقے کوشک کے رہائشی 15 سالہ نوجوان شازین گزگی ولد رئیس عبد الوہاب گزگی 10 مئی بروز ہفتہ 2025 کو صبح 10:00 بجے کے وقت کوشک گدان ہوٹل کے ایریا سے پر اسرارطور پرلاپتہ ہوگیا ہے جو اب تک کوئی خبر نہیں اور نہ ہی گھر پہنچا ہے۔
علاوہ ازیں تربت ڈنک سے گزشتہ دنوں فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ملازم عبدالطیف منگل کو بازیاب ہوکراپنے گھر پہنچ گئے۔
اہل خانہ نے ان کے بازیابی کی تصدیق کی ہے۔