تربت سے پاکستانی فورسز ہاتھوں  2 طالب علم سمیت 3 نوجوان جبراًلاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے پاکستانی فورسز نے 2 طالب علم سمیت 3 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

جبری لاپتہ کئے گئے 2 طالب علموں کی شناخت شئے حق ولد شہید الطاف بلوچ اور آدم سلیم جبکہ تیسرے کی شناخت عبدالمجید ولد عبدالغنی کے نام سے ہوگئی ہے۔

اہلخانہ کے مطابق شئے حق جس کی عمر 17 سال اور آدم سلیم جس کی عمر 16 سال ہے کو کل بروز منگل 29 اپریل کو تربت سے سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے جبری طور پرلاپتہ کیا تھا۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان فرسٹ ایئر کے طالب علم ہیں جوگذشتہ روز کراچی سے تربت پہنچے تھے جہاں انہیں جبری گمشدگی کانشانہ بنایاگیا ۔

اہلخانہ نے ان کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیاہے۔

دوسری جانب تربت میں ڈی بلوچ کے مقام پر عبدالمجید ولد عبدالغنی کو گذشتہ رات کراچی سے تربت آتے ہوئے راستے میں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالمجید اس وقت اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے جب چند نامعلوم افراد انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔

اہلِ خانہ کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل عبدالمجید کے ایک بھائی کو بھی اسی طرح جبری طور پر لاپتا کیا گیا تھا، جسے کچھ عرصے بعد رہا کر دیا گیا۔

عبدالمجید کے خاندان نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عبدالمجید کی فوری اور محفوظ بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔

Share This Article