پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ شب ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے ضلع لکی مروت کے دیہات ’بیگو خیل‘ میں امن کمیٹی کے اراکین پر حملہ کیا ہے جوابی کارروائی میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
واضع رہے کہ گزشتہ روز جنوبی وزیرستان لوئر کے صدر مقام وانا میں امن کمیٹی کے دفتر میں دھماکہ ہوا تھا جس میں 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد 15 سے 20 تک تھی اور انھوں نے گزشتہ شب مقامی امن کمیٹی کے ممبران پر حملہ کیا۔
لکی مروت کے ضلعی پولیس افسر جواد اسحاق نے واقع کی تصدیق کی اور بتایا کہ ’اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔‘
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حملہ آوروں کے حملے کا جواب مقامی لوگوں نے بھرپور انداز میں دیا اور جوابی کارروائی کی وجہ سے حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔‘
پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کا تعلق اسی گاؤں اور اسی علاقے سے بتایا گیا ہے۔
بیگو خیل امن کمیٹی کے صدر یونس خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انھیں اس بات کا خدشہ تھا کہ مسلح افراد حملہ کر سکتے ہیں جس پر وہ مقامی سطح پر تیار تھے اور پھر مسلح شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جو لگ بھگ دو گھنٹے تک جاری رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’شدت پسندوں کے پاس بھاری ہتھیار جیسے راکٹ لانچر اور تھرمل ڈیوائسز تھیں جبکہ امن کمیٹی کے لوگوں کے پاس صرف کلاشنکوف تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’فائرنگ کافی دیر تک جاری رہی لیکن پولیس یا سکیورٹی فورسز کی جانب سے کوئی موقع پر نہیں پہنچ سکا۔‘
گزشتہ روز جنوبی وزیرستان لوئر کے صدر مقام وانا میں امن کمیٹی کے دفتر میں دھماکہ ہوا تھا جس میں 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
یہ حملہ بھی جنوبی وزیرستان لوئر میں امن کمیٹی کے لوگوں پر کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دھماکہ خیز مواد دفتر اور اس کے ساتھ ایک گودام کی عمارت کی بیچ میں دیوار کے ساتھ رکھا گیا تھا۔
اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں کمانڈر سیف الرحمان شامل ہیں جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے لیکن بعد میں دم توڑ گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس حملے میں کمانڈر تحصیل بھی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دونوں افراد ماضی میں کمانڈر نذیر گروپ سے وابستہ تھے۔ کمانڈر نزیر کے بارے میں مقام لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ ماضی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے رہنما کے ساتھ رہے تھے لیکن بعد میں ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ کمانڈر نزیر حکومت کا حمایتی گروپ سمجھا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع میں حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں سے ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور پولیس تھانوں اور گاڑیوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔
جنوبی وزیرستان سمیت جنوبی اضلاع کے مختلف علاقوں سے سرکاری ملازمین کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں سے بیشتر اب تک ان کی تحویل میں ہیں ان میں اٹامک انرجی کمیشن کے قبول خیل منصوبے کے سات ملازمین شامل ہیں جنھیں تین ماہ گزر جانے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔