ڈیرہ مراد جمالی و چاغی سے ہندو تاجرسمیت 2 افراد جبراً لاپتہ ، تربت سے ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی اور چاغی براپچہ سے ہندو تاجرسمیت 2 افراد کو پاکستانی فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے جبکہ تربت سے فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار ایک طالب علم بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔

ڈیرہ مراد جمالی سے اطلاعات ہیں نامعلوم اغوا کاروں نے معروف ہندو تاجر سیتل داس کو اغوا کرکے نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے ۔

واقعہ کے بعد پولیس دیگر فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی شروع کردی ہے۔

خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انھیں نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرلیا ہے ۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور اغوا برائے تاوان کے وارداتوں میں براہ راست پاکستانی فوج و خفیہ ادارے ملوث پائے گئے ہیں۔

دوسری جانب ضلع چاغی کے علاقے براپچہ سے 25 اپریل کو فورسز نے ظاہر بلوچ ولد حاجی مصطفیٰ نامی 24 سالہ ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

بی وائی سی نے مذکورہ نوجوان کی گمشدگی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ نوجوان ایک تاجر ہے اور اسے ایف سی نے جبری گمشدگی کانشانہ بنایا ہے۔

دریں اثنا ضلع کیچ کے تربت کے علاقے چاہیں کؤر نزد تربت یونیورسٹی سے لاپتہ قریش نعیم بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

فیملی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قریش ولدیت نعیم سکنہ تاپلو زامران حال چاہین کور تربت بازیابی کے بعد گھر پہنچ گیاہے۔

فیملی کے مطابق انہیں 6مارچ کو سیکورٹی فورسز نے چاہین کور نزد تربت یونیورسٹی سے اُٹھایا تھا جو آج بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔

Share This Article