تربت میں پاکستانی فوج کے آلہ کار کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ ا پنے ایک پریس ریلیز میں تربت میں پاکستانی فوج کے ایک آلہ کار کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے تربت میں ایک حملے کے دوران قابض پاکستانی فوج کے ایک آلہ کار کو ہلاک کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے گذشتہ روز تربت کے علاقے ڈنک میں ایک مسلح حملے میں آلہ کار امان ولد غلام ساکن گوگدان کو ہلاک کیا۔ مذکورہ شخص قابض فوج کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈز کا ایک سرگرم رکن تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آلہ کار امان کو قابض فوج نے 2020 میں بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیموں کی صفوں میں شامل کر کے مخبری کا ٹاسک دیا تھا۔ تاہم، بی ایل اے کے انٹیلی جنس وِنگ کو نہ صرف اس منصوبہ بندی بلکہ مذکورہ شخص کی سرگرمیوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو چکی تھیں۔ سرمچاروں نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مذکورہ شخص کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا تاکہ اسے ٹریپ کیا جا سکے۔ آلہ کار امان بعدازاں سرمچاروں کی مخبری میں ناکامی کے بعد سرنڈر ڈرامے کا حصہ بن کر باقاعدہ طور پر ڈیتھ اسکواڈ کا رکن بن کر سامنے آیا۔

ترجمان نے کہا کہ آلہ کار امان تربت کے علاقے ڈنک، گوگدان، بہمن، شاہی تمپ اور گرد و نواح کے علاقوں میں سرگرم تھا۔ اس جھتے کی سرگرمیوں میں گھروں پر چھاپے، نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں، اور ٹارگٹ کلنگ شامل تھیں، جن میں یہ شخص قابض فوج کا سہولت کار تھا۔ مذکورہ آلہ کار کو تربت میں قابض فوج کی وی آئی پی نقل و حرکت کے دوران مختلف مقامات کی کلئیرنس کا ٹاسک بھی سونپا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ کش جرائم میں ملوث ہونے پر بلوچ قومی عدالت نے آلہ کار امان کو سزائے موت سنائی، جس پر سرمچاروں نے عمل درآمد کرتے ہوئے اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ اس جھتے سے منسلک دیگر افراد کی بھی نشاندہی ہو چکی ہے، جنہیں جلد ہی سرمچار ان کے منطقی انجام تک پہنچا دیں گے۔

Share This Article