بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کو ان کے جھوٹے دعوے پر چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سمی بلوچ نے پاکستان کا پر چم نذر آتش کیا ہے ۔
سمی بلوچ نے کہا کہ سرفراز بگٹی کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ پاکستان کے پرچم نذر آتش کرنے کی میری ویڈیو سامنے لائیں یا وزارت اعلیٰ کے منصب سے مستعفی ہوجائیں۔
یہ بات سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کیا ہے ۔
سمی بلوچ نے اپنے پوسٹ میں ایک ویڈیو شیئر کی جس میں سرفراز بگٹی ایک ٹی وی اینکر کو بتارہے ہیں کہ سمی دین بلوچ نے پاکستان کا پر چم نذر آتش کیا ہے اور آپ وہ فوٹیج چلائیں ،اگر آپ کے پاس نہیں ہے تو میں بھیج دوں گا۔
سمی بلوچ نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ ہماری پرامن تحریک کو متنازع بنانے کے لئے ہر وقت صرف اور صرف جھوٹ اور میڈیا پروپیگنڈہ کا سہارہ لیا گیا ہے، اور وہی جھوٹ آج بھی دہرایا جا رہا ہے۔ اب تک ہم پر جتنے الزامات لگائے گئے، ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود جھوٹا پروپیگنڈا بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
انہوں نے شیئر کی گئی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، سرفراز بگٹی، میرا نام لے کر دعویٰ کرتے ہیں:
“وہ ویڈیو چلائیں جس میں سمی دین پاکستان کو ماچس لگا رہی ہیں”، یعنی پاکستان کے جھنڈے کو آگ لگا رہی ہیں اور ان کے مطابق یہ ویڈیو ان کے پاس موجود بھی ہے۔
سمی دین نے کہا کہ میں سرفراز بگٹی کو کھلے عام چیلنج کرتی ہوں کہ وہ یہ ویڈیو قوم کے سامنے لائیں۔ بتائیں کب، کہاں اور کس موقع پر میں نے ایسا کیا؟
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اپنا الزام ثابت کر دیں، تو میں خود کو قانون کے حوالے کر دوں گی اور ہر قانونی کارروائی کا سامنا کروں گی۔لیکن اگر وہ ثبوت پیش نہ کر سکیں ( وہ بلکل بھی نہیں کر سکیں گے ) تو پھر انہیں فوراً مستعفی ہونا ہوگا۔
بی وائی سی رہنما نے کہا کہ ریاست کی اعلیٰ عدلیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جھوٹ، بہتان اور گمراہ کن بیان پر سرفراز بگٹی کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔
انہو ں نے کہا کہ یہ ضروری ہے تاکہ سچ، جھوٹ، اور پروپیگنڈے میں فرق عوام کے سامنے واضح ہو۔ اور یہ تماشہ اب بند ہونا چاہیے۔ اگر صرف جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ہم اور ہمارے لوگوں کو اٹھایا جا سکتا ہے، یا گرفتار کیا جاسکتا ہے تو پھر قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔