بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے ایک تشدد زدہ نعش برآمد ہوئی ہے۔
نعش تربت یونیورسٹی کے پیچھے گروکی ندی کےمقام پر برآمد ہوئی ہے۔
لیویز فورس نے لاش تحویل میں لیکر شناخت کیلئے ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا ہے۔
نعش کی شناخت شیر خان ولد نظر کے نام سے ہوگئی ہے جو ایک طالب علم ہے اور اس کا تعلق ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی ببرشور وارڈ نمبر 1سے ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق شیر خان جس کی عمر 18 سال ہے کو 15 اپریل 2025کودن کے ایک بجے پاکستانی فورسز سی ٹی ڈی نے تربت کے علاقے جوسک سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
شیر خان کے فیملی بھی تصدیق کی ہے کہ اُنھیں کچھ دن قبل پاکستانی فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوانوں کی ماورائے عدالت قتل کے سنگین جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل بھی پسنی کے ببر شور وارڈ نمبر ایک سے تعلق رکھنے والے جبری لاپتہ نظام ولد محمود نامی ایک نوجوان کو 16 اپریل کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔
مذکورہ نوجوان کی نعش پسنی کے علاقے چربندر لنک روڈ سے برآمد ہوئی ہے۔
نظام بلوچ کو 12 اپریل کو فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوانوں کی ماورائے عدالت قتل کے سنگین جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔