بلوچستان کے علاقے مستونگ میں چلتن کے دامن میں لکپاس کے مقام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں کی رہائی کے لئے بی این پی کی جانب سے سردار اختر مینگل کی قیادت میں گذشتہ تین ہفتوں سے جاری دھرنا گاہ میں لائبریری قائم کر دیاگیا ہے جبکہ بک اسٹال بھی لگایا گیا ہے۔
دھرنا شرکا کے لئے بی ایس او کی جانب سے دھرنا گاہ میں لائبریری قائم کیا گیا ہے جبکہ بک اسٹال بھی لگایا ہےجس کا آج پہلا دن ہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ روزدھرنا گاہ میں بلوچی و براہوئی موسیقی کا محفل بھی سجایا گیا تھا جس میں معروف فنکار استاد عبدلخالق فرہاد اور پروفیسرنوشین قمبرانی نے اپنے فن سے شرکا کو مسحور کیا۔
آج دھرنا گاہ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن مستونگ زون کی جانب سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام قومی دھرنا گاہ میں ”علم ئنا چراغ“ کتابی کاروان کے تحت دو روز لائبریری اور بک اسٹال کا انعقاد کیا گیا۔
بک اسٹال پر سیاست، تاریخ، فلسفہ اور فکشن سمیت مختلف موضوعات پر مبنی کتابیں صرف 100 روپے کی با رعایت قیمت پر رکھی گئیں ۔
بی ایس او ترجمان کے مطابق آج پہلے دن کے موقع پر دھرنے کے شرکاء اور علم دوست عوام نے بڑی تعداد میں اسٹال کا رخ کیا اپنے پسند کے کتابیں خریدے اور لائبریری میں مطالعہ کرکے اپنے علم و زانت میں اصافہ کیا، جبکہ بی ایس او کے اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے تنظیمی سنگتوں کو اس کاوش بھرپور داد دی ”علم ئنا چراغ“ کے ذریعے بی ایس او بلوچ سماج کو علم و شعور سے منور کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔
اس سلسلے میں بلوچستان کے کونے کونے میں بک اسٹالز لگانے اور کتابوں کے ذریعے علم و شعور بانٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔
بی ایس او کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ کل عارضی لائبریری اور بک اسٹال کا آخری دن ہے امید کرتے ہیں کہ دھرنے کے شرکاء اور اہل علاقہ آج کی طرح کل بھی بڑی تعداد میں پہنچ کر کتابیں خریدیں گے اور مطالعہ کریں گے۔