حکومت نے بی این پی کی کوئٹہ آمد واقتدار چھوٹنے کے خوف سے شاہراہیں بند کی ہیں، اپوزیشن جماعتوں کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے دیگر اپوزیشن اتحادی جماعتوں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، بی این پی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ، بی این پی عوامی کے رہنما حسن بلوچ، وحدت مسلمین کے میر مقبول لہڑی، عبدالقهار خان ودان، ملک فیصل دہوار، چیئرمین واحد بلوچ سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کے بلوچستان کی معدنیات سے متعلق حالیہ بیان، سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں جاری بی این پی کے دھرنے اور بلوچستان کی بیٹیوں کی رہائی کے مطالبے پر مبنی لانگ مارچ پر تفصیل سے بات کی گئی۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے فارم 47 اور حکومتی وزراء کی سردار اختر مینگل کے خلاف پریس کانفرنس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے دراصل بلوچستان کے وسائل پر قبضے کی سازش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں معدنی وسائل پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس نے ثابت کر دیا کہ بلوچستان کے خلاف جاری اقدامات غیر قانونی ہیں اور بی این پی ان کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھاتی رہے گی۔

ساجد ترین کا کہنا تھا کہ جب تک بلوچستان کی بیٹیاں رہا نہیں کی جاتیں، بی این پی دھرنا ختم نہیں کرے گی۔

انہوں نے وڈھ میں ایف سی کی فائرنگ سے زخمی ہو کر ہلاک ہونے والے پارٹی کارکن عنایت بلوچ کی موت کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے کوئٹہ کی سڑکیں اس لیے بند کی ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر بی این پی شہر میں داخل ہوئی تو کئی افراد کو کوئٹہ چھوڑنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور کٹھ پتلی حکومت کو بلوچستان اور پختونخوا کے وسائل پر فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ بلوچ و پشتون عوام کے وسائل کا استحصال نہ ہو۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض گرفتاریاں نہیں بلکہ بلوچستان کی عزت نفس پر حملہ ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر ساجد ترین نے کہا کہ جب تک بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، کوئی بھی طاقت ان کے وسائل پر قبضہ نہیں کر سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کرنے والے افسران اور وزراء کی حیثیت اور ساکھ عوام کے سامنے عیاں ہو چکی ہے، اور ان کے پیچھے اصل چہرے اب بے نقاب ہو رہے ہیں۔

Share This Article