بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں کمسن ساحل گلاب کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف فیملی اور عوامی حلقوں کا احتجاج جاری ہے۔
ساحل گلاب کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ شہری روزانہ احتجاج کر کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر پسنی پولیس ابھی تک خواب خرگوش میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جب تک پسنی پولیس میں تبدیلی نہیں لائی جائے گی، تحقیقات آگے بڑھنا مشکل ہے۔ پسنی کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہاں جونیئر سب انسپکٹر ایس ایچ او کے طور پر تعینات ہیں، اور ڈی ایس پی کو کسی بھی معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں۔
پسنی میں امن و امان کی بحالی اور مسلح گروہوں کی گرفتاری کے لیے ضروری ہے کہ سینئر اور تجربہ کار ایس ایچ او اور ڈی ایس پی تعینات کیے جائیں۔ تاہم، ڈی پی او گوادر اس کیس کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود پسنی پولیس کی جانب سے ابھی تک کسی کامیاب پیش رفت کا سامنا نہیں ہوا ہے۔
آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی مکران کو فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے۔ سب سے پہلے، ایس ایچ او سٹی سمیت ڈی ایس پی پسنی کو ٹرانسفر کر کے تجربہ کار افسران پسنی میں تعینات کیے جانے چاہئیں۔
علاوہ ازیں، ان دونوں افسران کیخلاف تحقیقات کا آغاز بھی ضروری ہے کہ انہیں پسنی کا کمان سنبھالنے کے لیے کیوں بھیجا گیا، اور ان کی نگرانی میں یہ تمام حالات کیسے پیدا ہوئے۔ یہ بات واضح ہے کہ پسنی سے نکلنے کا صرف ایک راستہ ہے جو پسنی سٹی تھانے سے گزرتا ہے، اور وہاں موجود ایس ایچ او اور ڈی ایس پی ابھی تک قاتلوں سے بے خبر ہیں۔
جب تک معصوم ساحل گلاب کے قاتلوں کو بے نقاب نہیں کیا جاتا، ان کا پیچھا کرنے کے لیے ایس ایچ او پسنی اور ڈی ایس پی پسنی کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔