خضداروبلیدہ میں فورسز کا مقابلے میں 5 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ،ایک کی شناخت بطور لاپتہ افراد ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے خضدار اور بلیدہ میں پاکستانی فوج نے مقابلے میں5 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جن میں اب تک ایک کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے۔

قلات کے علاقے کوہنگ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عبدالمالک ولد محمد یوسف، جنہیں 11 اکتوبر 2024 کو تربت سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، ان کی لاش کل رات باغبانہ سے برآمد ہوئی ہے۔

فورسز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالک بلوچ فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا، جس کے بعد ان کی لاش باغبانہ میں پھینک دی گئی۔

تاہم لواحقین اور علاقہ مکینوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ عبدالمالک ایک جبری لاپتہ شخص تھے، اور انہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔

عبدالمالک بلوچ کی میت ان کے لواحقین کے حوالے کی گئی، جنہوں نے انہیں قلات میں آبائی علاقے میں سپردِ خاک کر دیا۔

یاد رہے کہ مالک بلوچ کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے کئی بار سڑکیں بلاک کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا اور حکومتی نمائندوں سے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ جبکہ 3 اور 4 مارچ کو قلات سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تقریباً 50 افراد کے حوالے سے ہونے والے احتجاج کے دوران بھی عبدالمالک کے خاندان نے مذاکراتی ٹیم کے سامنے ان کی بازیابی کا مطالبہ اٹھایا تھا، جس پر ضلعی انتظامیہ نے پندرہ دن کی مہلت مانگی تھی۔

لواحقین نے کہاکہ کئی ماہ کی جدوجہد، امیدوں اور مسلسل احتجاج کے باوجود، ان کے انتظار کا انجام ایک لاش کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دلخراش واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، اور لواحقین سمیت انسانی حقوق کے حلقوں اور علاقہ مکینوں نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لواحقین نے بتایا کہ کل رات فورسز نے انہیں بلاکر ایک کاغذ پر دستحط کروایا اور اسی دوران لاش کو جیکٹ پہنایا گیا اور بندوق ساتھ رکھ کر تصویریں کھینچیے گئے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) نے دعویٰ کیا ہے کہ 4 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا۔

آئی ایس پی آر نے کہ آپریشن کے دوران، سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

اپنے دعوے میں کہا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے خلاف علاقے میں متعدد عسکریت پسندانہ سرگرمیوں میں فعال طور پر ملوث رہے۔

فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے عسکریت پسند کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

واضع رہے کہ حسب معمول فوج نے ہلاک افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ۔

دوسری جانب بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں  سمیت لاپتہ افراد لواحقین نے آئی ایس پی آر کی خضدار وبلیدہ میں مذکورہ کارروائیوں کو جعلی قرار دیکر ہلاک کئے گئے دیگر افراد کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ بھی لاپتہ افراد ہونگے اسی لئے ان کی شناخت اب تک ظاہر نہیں کی گئی ہے ۔

Share This Article