وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ 5782 ویں دن میں داخل ہوگیا، جہاں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ عید کی طرح اس بار بھی وی بی ایم پی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما منظور رئیس اور سماجی کارکن کمبر بلوچ نے کیمپ میں آکر لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو میں کہا کہ جبری گمشدگیوں کی نئی لہر میں ایک بار پھر نمایاں سیاسی و سماجی شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عید کے روز وی بی ایم پی کے احتجاجی مظاہرے میں شریک سینئر سیاسی کارکن ظہیر بلوچ کو 16 ایم پی او جیسے متنازعہ قانون کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ وہ ایک معمر اور دیرینہ سیاسی کارکن ہیں، جنھیں ان کی صحت کے پیشِ نظر فوری رہا کیا جانا چاہیے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ نرمی برتی جائے اور انہیں متنازعہ قوانین کے تحت قید کرنے کے بجائے شائستگی کے ساتھ عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنے دیا جائے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی و سماجی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اختر مینگل کے لانگ مارچ کے مطالبات جائز ہیں، جنھیں تسلیم کرتے ہوئے سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے اور انھیں پرامن طور پر شال میں احتجاج کا حق دیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات کے لیے اجتماعات، ریلیاں اور دھرنے منعقد کرنے کا جمہوری حق حاصل ہونا چاہیے، اور ریاست کو عوام کی آواز دبانے کے بجائے سننی چاہیے۔