بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ و دیگر کی رہائی کیلئے عید کے تیسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
بی وائی سی کی کال پر عید کے پہلے روز لیکر تیسرے روز تک پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، لوگ بڑی تعداد میں جن میں خواتین و بچوں کی کثیر تعداد شریک تھی سڑکوں پر نکلے اور ڈاکٹر ماہ رنگ ودیگر گرفتار رہنمائوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
آج عید کے تیسرے روز ضلع گوادر کے تحصیل ،ساحلی شپر پسنی اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔
مظاہرین نے بینرز و پلے کارڈ اور گرفتار رہنمائوں کی تصاویر اٹھائی ہوئی تھیں۔
خواتین بچوں کی بری تعدادپر مشتمل مظاہرین نے ڈاکٹر ماہ رنگ ، بیبو بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی ، بیبرگ بلوچ و دیگر کی فوری رہائی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح دشت کھڈان میں بھی خواتین و بچوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ وبی وائی سی رہنمائوں کی حمایت اور رہائی کےلئے ریلی نکالی اور احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کہا کہ انہیں ماورائے آئین گرفتار کیا گیا ہے لہذا انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
بی وائی سی کے مرکزی ترجمان اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پسنی کے عوام بی وائی سی قیادت کی غیر قانونی حراست اور بلوچستان میں جاری ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔
انہوںنے کہا کہ دشت کھڈان کے احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے کہا کہ شہروں سے دور دراز دیہاتوں تک بلوچستان مزاحمت کرتا ہے!
آج دشت کلدان میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں لوگ ریاستی جبر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تحریک ہر قدم کے ساتھ مضبوط ہوتی ہے!
بیان میں کہا گیا کہ کراچی سے لے کر بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں تک بلوچ عوام نے متحد ہوکر ثابت کیا کہ وہ اپنے قائدین کے ساتھ ہیں۔ ان کی آوازوں کو خاموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کی مزاحمت کو کچلا جائے گا۔