بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر، تنظیم کی مرکزی قیادت کی گرفتاری اور ریاستِ پاکستان کے جبر و بربریت کے خلاف، عید کے روز بلوچستان بھر سے لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر ریاستی جبر اور بربریت پر قائم نظام کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ عید کے پہلے اور دوسرے روز نوشکی، خاران، واشک، دالبندین، چارسر، یک مچ، ماشکیل، زاہدان، نوکنڈی، چاغی، امین آباد، تافتان، پنجگور، تربت، تمپ، مند، پانوان، بلیدہ، بل نگور، حب، ملیر، آوران، جھاؤ، خضدار، سوراب، قلات، مستونگ، ڈھاڈر اور کوہلو میں عوامی احتجاج ریکارڈ کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر لاکھوں افراد نے شرکت کر کے ریاستی جبر کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی عوامی مزاحمت اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ بلوچ عوامی مزاحمتی تحریک ایک گراس روٹ لیول کی خالص عوامی تحریک ہے، جس کی جڑیں بلوچ عوام میں پیوست ہیں۔ اس عوامی مزاحمتی تحریک کی سرخیل ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور اس کے رہنما سبغت اللہ شاہ جی، سمی دین بلوچ، بیبگر بلوچ، بیبو سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاری سے تحریک کمزور ہونے کے بجائے مزید مستحکم اور منظم ہو گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ عوامی مزاحمتی تحریک کے رہنماؤں کی گرفتاری اور ریاستی بربریت کے خلاف اس وقت بلوچستان بھر میں عوام سراپا احتجاج ہیں اور اس بوسیدہ نظام کے خلاف کھل کر، بغیر کسی خوف کے، اپنی نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ریاستِ پاکستان نے بلوچ عوام میں خوف پیدا کرنے اور بندوق کے زور پر اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے عام مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی، لاٹھی چارج کیا، سینکڑوں مظاہرین کو زخمی اور گرفتار کیا، اور اس تحریک کی قیادت کو قید میں ڈال دیا۔ لیکن یہ تمام وحشیانہ اقدامات عوام میں خوف پیدا کرنے کے بجائے عوامی نفرت اور غصے میں شدت کا باعث بنے، جس کے نتیجے میں عوام مزید متحرک اور منظم ہو گئے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کی واضح مثال عید کے روز ہونے والا تاریخی عوامی احتجاج ہے۔ اس سے قبل عید کے مواقع پر بلوچستان کے صرف ایک یا دو شہروں میں احتجاج ہوتے تھے، لیکن اس بار ریاستی جبر اور بربریت کے خلاف 30 شہروں میں بیک وقت لاکھوں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر ریاستی جبر پر قائم نظام کے خلاف اپنی واضح نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی منظم عوامی تحریک اس بات کی نوید ہے کہ بلوچستان میں جبر اور بربریت پر قائم نظام زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔ ریاستی جبر خود عوام کو منظم اور متحرک کرنے کا سبب بن رہا ہے، اور یہی جبر و بربریت بلوچ عوام کو اس نہج پر لے آئی ہے کہ بہت جلد بلوچستان کے لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر اس نظام کو اپنے ہاتھوں سے ملیا میٹ کریں گے۔