بلوچستان بھر میں عید ِ مزاحمت، لوگوں نے سڑکوں پر عید منائی

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی ریاست اور ا سکی فورسز کی جنگی جرائم ومظالم ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین قیادت کی ماورائے آئین گرفتاری، جبری گمشدگیوں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف
عید ِ مزاحمت کے نام پر یکجہتی کمیٹی کی کال پر آج عید کے روز پورا بلوچستان تاریخ میں پہلی بار سراپا یکمشت احتجاج رہی اور سڑکوں پر نکل آئی ۔

آ ج عید الفطر کے روز پاکستان و دیگر اسلامی ممالک میں لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہیں لیکن بلوچستان عید کے روز بھی ماتم کدہ ہے اور بلوچ عوام سڑکوں پر اپنے پیاروں کی ماورائے آئین گرفتاری ،ماورائے عدالت قتل ،جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عید الفطر مذہبی عقیدت و احترام ، جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی اور سلامتی، ترقی وخوشحا لی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں وہیں بلوچستان بھرمیں بلوچ قوم اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی اور ماورائے آئین و قانون گرفتار رہنمائوں اور کارکنان کی رہائی کےلئے سڑکوں پر احتجاج کرتی رہیں، ان کی بازیابی و رہائی کا مطالبہ کرتی رہیں ،جن میں بچے خواتین سمیت بلوچ خاندانوں کے تمام فرد شامل تھے ۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر آج درج ذیل علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جو تاریخ میں پہلی بار بہ یک وقت اتنی بڑی تعداد میں عید کے روزاحتجاج کا انعقاد اور عوام کی کثیر تعداد میں شرکتایک نئی پیش رفت اور تبدیلی کی صورت میں دیکھی جارہی ہے۔

نوکنڈی :
نوکنڈی کے لوگ بی وائی سی قیادت کی غیر قانونی حراست کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جدوجہد جاری رہے گی اور مزاحمت کو خاموش نہیں کیا جائے گا!

نوکنڈی

چاغی :
چاغی میں عوام سڑکوں پر نکل آئے،بی وائی سی قیادت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مزاحمت کا جذبہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے، بلوچ پیچھے نہیں ہٹیں گے!

چاغی

پنجگور:
بلوچ سڑکوں پر نکل آئے ہیں ، مزاحمت کر رہے ہیں، مارچ کر رہے ہیں، انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے رہنماؤں کی نظربندی سے ان کی روح نہیں ٹوٹے گی اور ہر بلوچ کی تحریک بی وئی سی کو کچل نہیں سکتا!

پنجگور

تمپ ( ضلع کیچ)
تمپ میں ہزاروں مرد و خواتین نے سڑکوں پر مارچ کیا، بی وائی سی قیادت کی غیر قانونی حراست کے خلاف آواز بلند کی۔ عید کے اس دن، بلوچ عوام جبر کے تحت جشن منانے سے انکاری ہیں،مزاحمت کر رہے ہیں، انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں!

تمپ ( ضلع کیچ)

واشک:
عید کے دن، ہزاروں افراد واشوک کی سڑکوں پر نکل آئے، اور اس موقع کو مزاحمت کے دن میں بدل دیا۔ مارچ میں بی وائی سی کی قیادت کی رہائی اور بلوچ کارکنوں پر پاکستان کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے خاتمے کے مطالبات کی بازگشت تھی۔

واشک

بلیدہ:
بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بلیدہ میں ایک بہت بڑی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں خواتین اور مرد سڑکوں پر نکل آئے اور بی وائی سی قیادت اور تمام حراست میں لیے گئے مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

بلیدہ ( ضلع کیچ)

مستونگ:
بی وائی سی مستونگ زون کے زیر اہتمام بی وائی سی کی مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ، بیبرگ بلوچ، لالا وہاب بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر کارکنوں کی گرفتاری و عدم بازیابی کے خلاف آج عید کے روز احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

مستونگ

سوراب:
بی وآئی سی سوراب کی جانب سے ماہ رنگ بلوچ و دیگر کے بازیابی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ان پر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ و دیگر کی بازیابی کیلئے نعرہ درج تھے۔

سوراب

ڈھاڈر:
بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج، ڈھاڈر کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، بی وائی سی قیادت اور تمام حراست میں لیے گئے مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

ڈھاڈر

دالبندین:
دالبندین میں ایک زبردست ریلی نکالی گئی، جہاں بلوچ عوام سڑکوں پر نکل آئی، بی وائی سی کی قیادت اور تمام حراست میں لیے گئے مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ عید پر بھی جدوجہد جاری ہے، کوئی کریک ڈاؤن بلوچ مزاحمت کو خاموش نہیں کر سکتا!

دالبندین

قلات:
عید کے موقع پر قلات میں ایک زبردست ریلی دیکھنے میں آئی جب بلوچ عوام سڑکوں پر نکل آئے، جس نے بی وائی سی کی قیادت اور تمام حراست میں لیے گئے مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ریاستی جبر کے باوجود عوامی مزاحمت متزلزل ہے۔بی وائی سی ہر بلوچ کی تحریک ہے، اور کوئی کریک ڈاؤن اسے توڑ نہیں سکتا!

قلات

خضدار:
عید کے دن، سیکڑوں افراد خضدار میں سڑکوں پر نکل آئے، بی وائی سی کی قیادت کی رہائی اور پاکستان کے ظالمانہ کریک ڈاؤن کے خلاف مزاحمت کا مطالبہ کیا۔ بڑی ریلی نے واضح پیغام دیا کہبی وائی سی ہر بلوچ کی تحریک ہے، اور کوئی طاقت اسے خاموش نہیں کر سکتی!

خضدار

نوشکی:
نوشکی میں سینکڑوں پرعزم بلوچ عید کے موقع پر سڑکوں پر نکل آئے، بی وائی سی قیادت کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے خلاف وسیع پیمانے پر مزاحمت میں شامل ہوئے۔ یہاں تک کہ جیسے دوسرے جشن مناتے ہیں، بلوچستان کے لوگ پرعزم ہیں، انصاف اور اپنے زیر حراست رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بی وائی سی ہر بلوچ کی تحریک ہے اور کوئی طاقت یا جبر اس متحدہ جدوجہد کو خاموش نہیں کر سکتا۔ ہر احتجاج، ہر ریلی کے ساتھ مزاحمت کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ بلوچستان کی روح کو کبھی کچلا نہیں جائے گا۔

نوشکی

خاران:
خاران میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ان کی آوازیں ایک واضح پیغام سے گونج رہی تھیں۔ بی وائی سی ہر بلوچ کی تحریک ہے، اور کوئی طاقت اسے کچل نہیں سکتی۔ ریاست کا جبر، اس کا وحشیانہ کریک ڈاؤن، اور بی وائی سی قیادت کی غیر قانونی نظربندیاں عوام کو خاموش نہیں کریں گی۔

خاران

آواران :
مزاحمت کی عیدکے عنوان سے آواران میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
آواران میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں لوگوں نےبی وائی سی قیادت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

آواران

ماشکیل:
عید کے دن ماشکیل میں ہزاروں بلوچوں نے ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بی وائی سی قیادت کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے میں خلل ڈالنے کی کوشش میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ شروع کی، اس کے باوجود وہ ثابت قدم رہے، غیر متزلزل عزم کے ساتھ ریلی کو جاری رکھا۔

ماشکیل

مند( ضلع کیچ):
عید کے دن، مند کے لوگوں نے بی وائی سی قیادت کی غیر قانونی حراست کے خلاف جاری مزاحمت میں شامل ہو کر ایک زبردست احتجاجی ریلی نکالی۔
ریاستی جبر کے باوجود، بلوچستان نے خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔

مند ( ضلع کیچ)

حب:
عید کے اس دن حب میں بلوچ مرد، خواتین اور بچے سڑکوں پر نکل آئے اور بی وائی سی قیادت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔

حب

Share This Article